|
آرچ بشپ آف انگلینڈ کی حق گوئی
رپورٹ : بی بی سی ون ڈاٹ نیٹ اسلام آباد
معاصر اخبار نوائے وقت کا فکر انگیز ادارتی شزرہ
کینٹر بری چرچ نشپ روون ولیمز نے کہا ہے کہ میڈیا
اور چرچ کے میرے دوستوں نے حساس موضوع کو غلط
انداز میں پیش کیا اور مسئلہ کو سیاسی رنگ دینے کی
کوشش کی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا میں امن
اور انصاف کیلئے پیغمبر اسلام حضرت محمدصلعم سے
زیادہ کسی نے کوشش نہیں کی اور خواتین سے اچھے
برتاؤ کا پہلی بار آپ نے ہی درس دیا اور قوانین
بنائے۔ روون ولیمز نے کہا کہ اس بنیاد پر انہوں نے
برطانوی قوانین میں کچھ اسلامی شرعی قوانین شامل
کرنے کی تجویز دی تھی کیونکہ برطانیہ میں مسلمانوں
کی بڑی تعداد بھی شامل ہے۔انہوں نے کہا کہا انہیں
اس بیان کے بعد کسی مذہب یا ملک سے خطرہ نہیں
ہے۔ڈاکٹر روون ولیمز نے چند روز قبل برطانیہ میں
کچھ اسلامی قوانین متعارف کرانے کی تجویز دی تھی
جس پر ان کیخلاف اینگلیکن چرچ کے آرچ بشپ (لاطینی
امریکہ) نے بڑی سخت تنقید کی ہے ان کی مخالفت کا
سلسلہ دو براعظموں تک پھیل گیا ہے ۔یورپ امریکہ
اور دیگر چرچوں کی طرف سے ان پر تنقید کے علاوہ ان
سے اپنے عہدہ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ بھی کیا جا
رہا ہے۔مسیحی مذاہب کے ماننے والے تمام فرقوں اور
چرچوں کے ماننے والے اپنے ہی ایک فاضل سکالر
کیخلاف وشنہ والزام سے بھی آگے بڑھ کر انہیں طرح
طرح کے الزامات سے بھی نواز رہے ہیں۔
آج دنیا بھر کے مسلمانوں کو اس بات پر غور کرنا
چاہئے کہ وہ سچائیاں جو ڈاکٹر روون کو نظر آرہی
ہیں یہ خود مسلمانوں کو کیوں نظر نہیں آرہیں؟ اور
عالمی سطح پر مسلمانوں کیخلاف جو متعصبانہ مہم
چلائی جارہی ہے اس میں دین ،عقل اور فہم سے کام نہ
لینے والے مسلمان لیڈر بھرپور انداز میں مغرب کی
مدد کرنے سے گریز نہیں کررہے۔اس کی وجہ سے مغرب
میں مسلمانوں کیخلاف شدید نفرت کی لہریں اٹھ رہی
ہیں۔جس میں ڈنمارک ،سویڈن ، ناروے، بیلجم اور
انگلینڈ وغیرہ جیسے ممالک بھی سرگرمی سے حصہ لے
رہے ہیں جبکہ آسٹریا کے جنوبی صوبہ کرنتھیا کی
حکومت نے اسلام کے پھیلاؤ سے خوف زدہ ہو کر صوبے
میں مساجد کی تعمیر پر پابندی لگا دی ہے، اس
صورتحال میں مسلمان علما کا فرض ہے کہ وہ اسلام
دشمن ممالک کو ان کی زبان میں قرآن حکیم پڑھائیں
اور جناب رسالت مآب کی تعلیمات دکھائیں۔مغرب میں
اسلام کے بارے میں جو بھی غلط فہمیاں پیدا ہوئی
ہیں انہیں درست کیا جائے۔عیسائی اور دیگر مذاہب سے
متعلقہ علما کرام کیساتھ مسلسل اعلٰی سطحی علمی
مکالمہ ہونا چاہئے جو انکی تشقی کیلئے جارہی رہے
اور اسکے ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ مسلمانوں کے
تمام فرقون کے علما کرام اجہتادی عزم کیساتھ باہم
مل کر بیٹھیں اور مسلمان فرقوں کے درمیان جو بھی
فروعی یا بنیادی اختلافات موجود ہیں ان پر بات چیت
کرکے اندرونی اختلافات کو بھی کم ازکم کیا جا ئے
تاکہ مسلمانوں کی حیثیت اور ان کے عقائد متفقہ اور
یکساں تعبیرو معانی رکھیں۔چرچ آف انگلینڈ کے آرچ
بچپ نے اگر بات کہہ دی تو اسے دشموں کے سامنے
اکیلا نہ چھوڑ یں۔علما اسلام ان کی مدد کیلئے کھڑے
ہو جا ئیں۔؛
|