|
وفاقی دارلحکومت اسلام اباد کی سیاسی صورتحال
علی رضا
رپورٹ : بی بی سی ون ڈاٹ نیٹ اسلام
آباد
وفاقی دارالحکومت کے سردموسم اور یح بستہ ہواؤں
میں آئندہ الیکشن کی آمد نے سیاسی ماحول گرما
دا۔اسلام آباد میں قومی اسمبلی کے دو حلقے ہیں جن
میں این اے 48اور
این اے49
شامل ہیں
این اے 48
زیادہ تر شہری علاقے پر مشتمل ہے جہاں سے گزشتہ
انتخابات میں ایم ایم اے کے امیدوار میاں اسلم
کامیاب ہوئے تھے اور پیپلز پارٹی کے ڈاکٹر بابر
اعوان دوسرے نمبر پر تھے۔موجودہ الیکشن میں ایم
ایم اے میں شامل جماعت جماعت اسلامی کے بائیکاٹ کی
وجہ سے میاں اسلم مقابلے سے باہر ہیں اور پیپلز
پارٹی کے امیدوار ڈاکٹر اسرار شاہ کے لیے میدان
صاف ہوگیا ہے۔مسلم لیگ(ن) نے اس حلقے میں انجم
عقیل خان اور مسلم لیگ (ق) نے رضوان صادق کو ٹکٹ
دیا ہے جودونوں کمزور امیدوار ہیں۔پیپلز پارٹی کے
کاسرار شاہ کو دوہرا فائدہ اس لیے ہو رہا ہے کہ
ایف ایٹ کچہری میں ہونے والے دھماکے میں وہ شدید
زخمی ہوگئے تھے اور وہ وہیل چیئر پر اپنی انتخابی
مہم چلا رہے ہیں۔اس لحاظ سے انہیں ہمدردی کے دوہرے
ووٹ ملنے کی امید کی جا رہی ہے۔اور پارٹی کارکن ان
کی مہم بھرپور انداز میں چلا رہے ہیں جبکہ مسلم
لیگ( ن ) کے امید وار انجم عقیل خان دوسرے جبکہ
مسلم لیگ (ق)کے رضوان صادق تیسرے نمبر پر ہیں۔اور
اگر حلقے میں کوئی بڑی انتخابی تبدیلی نہ ہوئی تو
اسرار شاہ کے کامیاب ہونے کے امکانات زیادہ
ہیں۔دارالحکومت کے دوسرے حلقے این اے
49میں
کانٹے دار مقابلے کی توقع ہے جہاں مسلم لیگ (ق)کے
مصطفٰی نواز کھوکھر،پیپلز پارٹی کے سید نئیر حسین
بخاری،مسلم لیگ(ن)کے فضل طارق چوہدری اور آزاد
امیدوار ملک تبارک حسین( باری) قابل ذکر ہیں۔گزشتہ
انتخابات میں پیپلز پارٹی کے سید نئر حسین بخاری
اس حلقے سے کامیاب ہوئے تھے۔اسمرتبہ انہیں حلقے
میں مشکل صورتحال کاسامنا کرنا پڑرہا ہے۔اور
مصطفٰی نواز کھوکھر اور ملک باری حلقے میں بھرپور
انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔لیکن سید نئیر بخاری کو
ابھی تک نفسیاتی برتری حاصل ہے۔جبکہ مسلم لیگ(ن)کے
امیدوار کافی پیچھے نظر آتے ہیں۔ملک باری کی
انتخابی مہم سے بھی حلقے کے انتخابی نتائج پر
اثرپڑ سکتا ہے۔اور اس کا فائدہ بھی سید نئیر بخاری
کو مل سکتا ہے۔لیکن اس حلقے کی تلخ حقیقت یہ ہے کہ
پولنگ والے دن جو امیدوار ووٹروں کو پولنگ
اسٹیشنوں پر لانے میں کامیاب ہوا اس کی پوزیشن
بہتر پوسکتی ہے۔
|