BBCONE.NET
ہم سےرابطہ کیجۓ اشتہارات ہماری پالیسی ہمارےبارےمیں

صفحہ اول    پاکستان    عالمی دنیا    ارد گرد    رو برو    کھیل    کالم و مضامین    شوبز    عالم اسلام    کامرس    مقامی خبریں

Click here to download urdu font

Click here to download urdu font

 

وقت اشاعت :Friday , 4 January 2008, 09:30 GMT 14:30 PST

 

وفاقی دارلحکومت اسلام اباد کی سیاسی صورتحال
 


 علی رضا

رپورٹ :   بی بی سی ون ڈاٹ نیٹ اسلام آباد

وفاقی دارالحکومت کے سردموسم اور یح بستہ ہواؤں میں آئندہ الیکشن کی آمد نے سیاسی ماحول گرما دا۔اسلام آباد میں قومی اسمبلی کے دو حلقے ہیں جن میں این اے 48اور این اے49 شامل ہیں این اے 48 زیادہ تر شہری علاقے پر مشتمل ہے جہاں سے گزشتہ انتخابات میں ایم ایم اے کے امیدوار میاں اسلم کامیاب ہوئے تھے اور پیپلز پارٹی کے ڈاکٹر بابر اعوان دوسرے نمبر پر تھے۔موجودہ الیکشن میں ایم ایم اے میں شامل جماعت جماعت اسلامی کے بائیکاٹ کی وجہ سے میاں اسلم مقابلے سے باہر ہیں اور پیپلز پارٹی کے امیدوار ڈاکٹر اسرار شاہ کے لیے میدان صاف ہوگیا ہے۔مسلم لیگ(ن) نے اس حلقے میں انجم عقیل خان اور مسلم لیگ (ق) نے رضوان صادق کو ٹکٹ دیا ہے جودونوں کمزور امیدوار ہیں۔پیپلز پارٹی کے کاسرار شاہ کو دوہرا فائدہ اس لیے ہو رہا ہے کہ ایف ایٹ کچہری میں ہونے والے دھماکے میں وہ شدید زخمی ہوگئے تھے اور وہ وہیل چیئر پر اپنی انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔اس لحاظ سے انہیں ہمدردی کے دوہرے ووٹ ملنے کی امید کی جا رہی ہے۔اور پارٹی کارکن ان کی مہم بھرپور انداز میں چلا رہے ہیں جبکہ مسلم لیگ( ن ) کے امید وار انجم عقیل خان دوسرے جبکہ مسلم لیگ (ق)کے رضوان صادق تیسرے نمبر پر ہیں۔اور اگر حلقے میں کوئی بڑی انتخابی تبدیلی نہ ہوئی تو اسرار شاہ کے کامیاب ہونے کے امکانات زیادہ ہیں۔دارالحکومت کے دوسرے حلقے این اے 49میں کانٹے دار مقابلے کی توقع ہے جہاں مسلم لیگ (ق)کے مصطفٰی نواز کھوکھر،پیپلز پارٹی کے سید نئیر حسین بخاری،مسلم لیگ(ن)کے فضل طارق چوہدری اور آزاد امیدوار ملک تبارک حسین( باری) قابل ذکر ہیں۔گزشتہ انتخابات میں پیپلز پارٹی کے سید نئر حسین بخاری اس حلقے سے کامیاب ہوئے تھے۔اسمرتبہ انہیں حلقے میں مشکل صورتحال کاسامنا کرنا پڑرہا ہے۔اور مصطفٰی نواز کھوکھر اور ملک باری حلقے میں بھرپور انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔لیکن سید نئیر بخاری کو ابھی تک نفسیاتی برتری حاصل ہے۔جبکہ مسلم لیگ(ن)کے امیدوار کافی پیچھے نظر آتے ہیں۔ملک باری کی انتخابی مہم سے بھی حلقے کے انتخابی نتائج پر اثرپڑ سکتا ہے۔اور اس کا فائدہ بھی سید نئیر بخاری کو مل سکتا ہے۔لیکن اس حلقے کی تلخ حقیقت یہ ہے کہ پولنگ والے دن جو امیدوار ووٹروں کو پولنگ اسٹیشنوں پر لانے میں کامیاب ہوا اس کی پوزیشن بہتر پوسکتی ہے۔

 

  

 


 

 

 

 
 
 
دوست کو بھیجیں

پرنٹ کریں

صفحہ اول
 
 

Click here to watch BBCONE Videos
 
Click here
 
Click here
 
Click here for BBCONE Photos
 

SuperWebz.com

 





تمام جملہ حقوق بحق بی بی سی ون ڈاٹ نیٹ محفوظ ہیں

Bangash Broadcasting Company (pvt.) Ltd. of Pakistan