BBCONE.NET
ہم سےرابطہ کیجۓ اشتہارات ہماری پالیسی ہمارےبارےمیں

صفحہ اول    پاکستان    عالمی دنیا    ارد گرد    رو برو    کھیل    کالم و مضامین    شوبز    عالم اسلام    کامرس    مقامی خبریں

Click here to download urdu font

Click here to download urdu font

 

وقت اشاعت :Sunday,06 July 2008, 11:39 GMT 17:39 PST

 

مہنگائي کا سيلاب، اشيائے خوردنوش عوام کي پہنچ سے دور           


رپورٹ : بی بی سی ون ڈاٹ نیٹ کراچی


 ملک بھر ميں مہنگائي کے سيلاب ميں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ پيٹرول اور سي اين جي کے بعد اب اشيائے خورد و نوش بھي عوام کي پہنچ سے دور ہو رہي ہيں۔ مہنگائي ميں مسلسل اضافہ کے باعث غريب طبقہ تو ايک طرف متوسط آمدني والوں کا گزارا بھي مشکل ہو گيا ہے۔ پہلے غريب آدمي دال چاول کھا کر گزارا کر ليتا تھا ليکن اب ان کي قيمتيں بھي عوام کي قوت خريد سے باہر ہو رہي ہے۔ افسوسناک بات يہ ہے کہ آٹا، دال چيني اور گھي حکومت کي طرف سے بنائے گئے يوٹيليٹي اسٹورز ميں دستياب ہي نہيں۔جولائي
2007ئ ميں70 روپے کلو گرام فروخت ہونے والا کرنل چاول مارکيٹ ميں 125 روپے في کلوگرام فروخت ہو رہا ہے۔ کرنل چاول باسمتي جولائي 2007ئ ميں 70 روپے کلوگرام فروخت ہو رہا تھا جس کي قيمت اب 105روپے في کلو تک جا پہنچي ہے۔ ٹوٹا چاول گزشتہ سال جولائي ميں32 روپے في کلو ميں باآساني مل جاتا تھا ليکن اب مارکيٹ ميں اس کي قيمت 60 روپے في کلو گرام ہے۔ اسي طرح16 کلو گرام گھي کا کنستر ايک سال پہلے 1290 روپے ميں فروخت ہو رہا تھا اس کي قيمت اب1925 روپے ہو چکي ہے۔ غريبوں ميں مقبول دال مسور کي قيمت 2007 ميں 52 روپے کلو گرام تھي جو اس وقت118 روپے ميں فروخت ہو رہي ہے مہنگائي کے اس پہاڑ سے تاجر طبقہ بھي پريشان نظر آتا ہے۔عوام کا کہنا ہے کہ حکومت نے مہنگائي پر قابو نہ پايا تو ان کے پاس خود کشي کرنے کے علاوہ کوئي راستہ نہيں ہو گا۔ حکومت مہنگائي پر قابو پانے ميں بے بس نظر آ رہي ہے۔ موجودہ حکومت کا روٹي کپڑا اور مکان کا نعرہ اب کھوکھلا نظر آنے لگا ہے۔ عوام مہنگائي کے طوفان کے تھمنے کي آس لگائے بيٹھے ہيں .
 

 


 
 

 
 
 
دوست کو بھیجیں

پرنٹ کریں

صفحہ اول
 
 

Click here to watch BBCONE Videos
 
Click here
 
Click here
 
Click here for BBCONE Photos
 

 

 

تمام جملہ حقوق بحق بی بی سی ون ڈاٹ نیٹ محفوظ ہیں

Bangash Broadcasting Company (pvt.) Ltd. of Pakistan