|
مہنگائي کا سيلاب، اشيائے خوردنوش عوام کي پہنچ سے
دور
رپورٹ : بی بی سی ون ڈاٹ نیٹ کراچی
ملک بھر ميں مہنگائي کے سيلاب ميں روز بروز
اضافہ ہو رہا ہے۔ پيٹرول اور سي اين جي کے بعد اب
اشيائے خورد و نوش بھي عوام کي پہنچ سے دور ہو رہي
ہيں۔ مہنگائي ميں مسلسل اضافہ
کے
باعث غريب طبقہ تو ايک طرف متوسط آمدني والوں کا
گزارا بھي مشکل ہو گيا ہے۔ پہلے غريب آدمي دال
چاول کھا کر گزارا کر ليتا تھا ليکن اب ان کي
قيمتيں بھي عوام کي قوت خريد سے باہر ہو رہي ہے۔
افسوسناک بات يہ ہے کہ آٹا، دال چيني اور گھي
حکومت کي طرف سے بنائے گئے يوٹيليٹي اسٹورز ميں
دستياب ہي نہيں۔جولائي
2007ئ
ميں70
روپے کلو گرام فروخت ہونے والا کرنل چاول مارکيٹ
ميں
125
روپے في کلوگرام فروخت ہو رہا ہے۔ کرنل چاول
باسمتي جولائي
2007ئ
ميں
70
روپے کلوگرام فروخت ہو رہا تھا جس کي قيمت اب
105روپے
في کلو تک جا پہنچي ہے۔ ٹوٹا چاول گزشتہ سال
جولائي ميں32
روپے في کلو ميں باآساني مل جاتا تھا ليکن اب
مارکيٹ ميں اس کي قيمت
60
روپے في کلو گرام ہے۔ اسي طرح16
کلو گرام گھي کا کنستر ايک سال پہلے
1290
روپے ميں فروخت ہو رہا تھا اس کي قيمت اب1925
روپے ہو چکي ہے۔ غريبوں ميں مقبول دال مسور کي
قيمت
2007
ميں
52
روپے کلو گرام تھي جو اس وقت118
روپے ميں فروخت ہو رہي ہے مہنگائي کے اس پہاڑ سے
تاجر طبقہ بھي پريشان نظر آتا ہے۔عوام کا کہنا ہے
کہ حکومت نے مہنگائي پر قابو نہ پايا تو ان کے پاس
خود کشي کرنے کے علاوہ کوئي راستہ نہيں ہو گا۔
حکومت مہنگائي پر قابو پانے ميں بے بس نظر آ رہي
ہے۔ موجودہ حکومت کا روٹي کپڑا اور مکان کا نعرہ
اب کھوکھلا نظر آنے لگا ہے۔ عوام مہنگائي کے طوفان
کے تھمنے کي آس لگائے بيٹھے ہيں
.
|