|
اتحادي ليڈروں کو دوسرے ممالک ميں ملاقا توں سے
گريز کرنا چاہيے،دہشت گردي کے خلاف ملک ميںکسي
دوسري فوج کو کارروائي کي اجازت نہيں ديں گے وطن
واپسي پر کابينہ ميں توسيع ہو گي ۔امريکہ کے ساتھ
عوامي سطح پر تعلقات بہتر بنانا چاہتے ہيں بھارتي
وزيراعظم سے سارک کانفرنس ميں ملاقات متوقع ہے،
لندن ميں گفتگو
رپورٹ : بی بی سی ون ڈاٹ نیٹ لندن
وزيراعظم سيد يوسف رضا گيلاني نے کہا ہے کہ امريکہ
کے ساتھ عوامي سطح پر تعلقات بہتر بنانا چاہتے ہيں۔
بھارتي وزيراعظم سے سارک سربراہ کانفرنس ميں
ملاقات متوقع ہے۔
اتحادي ليڈروں کو دوسرے ممالک ميں ملاقاتوں سے
گريز کرنا چاہيے۔ ملک ميں دہشت گردي ہمارا مسئلہ
ہے ۔کسي دوسري فوج کو کارروائي کي اجازت نہيں ديں
گے۔ وزيراعظم يوسف رضا گيلاني نے امريکہ جاتے ہوئے
لندن ميں مختصرقيام کيا اس موقع پر ہيتھروائيرپورٹ
پر صحافيوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ
اپنے دورے ميں امريکي حکام کے ساتھ مختلف شعبوں
ميں تعاون کے حوالے سے بات چيت کي جائے گي۔ انہوں
نے کہاکہ حکومت کي خواہش ہے کہ امريکہ کے ساتھ
عوامي سطح پر تعلقات کو بہتر بنايا جائے۔ تاکہ
عوام کو خوشحالي و ترقي ملے۔ بھارت کے ساتھ تعلقات
کے حوالے سے وزيراعظم نے کہا کہ بھارتي وزيراعظم
کو اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے بعد انہوں نے فون
کر کے مبارکباد دي ہے اور دو طرفہ تعلقات پر
تبادلہ خيال کيا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کي
کوشش ہے کہ بھارت کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کو بہتر
بنايا جائے اورتمام مسائل کو حل کيا جائے۔
وزيراعظم نے کہا کہ بھارتي وزيراعظم من موہن سنگھ
سے سارک ممالک کانفرنس کے موقع پر ملاقات متوقع ہے
تاہم ابھي تک اسکا حتمي فيصلہ نہيں ہوا۔ غير ممالک
ميں اتحادي ليڈروں کي ملاقاتوں کے حوالے سے پوچھے
گئے سوال پر انہوں نے کہا کہ (ن) ليگ کے سربراہ
نواز شريف اتحاد ميں شامل ہيں اور وہ بھي کہہ چکے
ہيں کہ دوسرے ممالک ميں اتحادي ليڈروں کي ملاقاتيں
نہيں ہوني چاہيں کيونکہ اس سے افواہوں کے پھيلنے
کا خدشہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پيپلز پارٹي نے
اتحاد اس ليے قائم کيا تھا کہ پيپلز پارٹي کي
چيئرپرسن بے نظير بھٹو کي خواہش تھي کہ ملک ميں سے
ون رولنگ پارٹي کا نظام ختم ہو اور ملک ميں
جمہوريت بحال ہو۔ وزيراعظم نے کہا کہ بے نظير بھٹو
کي وطن واپسي پر سابق حکومت نے ملک ميں ايمرجنسي
لگا دي تھي جس کے خلاف انہوں نے آواز اٹھائي تھي
اور عدليہ کي آزادي کے لئے لانگ مارچ ميں شريک
ہونے کي تلقين کي تھي۔ يوسف رضا گيلاني نے کہاکہ
پيپلز پارٹي کے کارکنوں نے لانگ مارچ ميں شرکت کي
اور گرفتارياں بھي ديں۔ امريکي وزيرخارجہ کے بيان
پر وزيراعظم يوسف رضا گيلاني نے کہا کہ دہشت گردي
ہمارا مسئلہ اور ہماري لڑائي ہے اور ہم چاہتے ہيں
کہ قبائلي علاقوں ميں امن قائم ہو اور وہاں کے لوگ
ترقي کريں تاہم دہشت گردي کے خلاف کارروائي صرف
پاکستاني فورسز کريں گي اور کسي غير ملکي فوج کو
پاکستان ميں داخل ہونے کي اجازت نہيں ديں گے۔انہوں
نے کہاکہ امريکي دورے ميں کونڈوليزا رائس سے ان کے
بيان پر بات چيت کي جائے گي۔ اپني حکومت کے حوالے
سے بات کرتے ہوئے وزيراعظم نے کہا کہ وطن واپسي کے
بعد کابنہ ميں توسيع کي جائے گي۔
|