|
پاکستان اور امريکہ کا جمہوريت کے استحکام اور
دہشت گردي و انتہا پسندي کے خلاف پورے عزم کے ساتھ
جنگ لڑنے کے عزم کا اظہار۔ملکر جمہوريت کے استحکام
اور عالمي امن کیلئے کام کرتے رہينگے ملاقات کے
بعد اخبار نويسوں سے مشترکہ بات چيت
رپورٹ : بی بی سی ون ڈاٹ نیٹ واشنگٹن
پاکستان اور امريکہ نے جمہوريت کے استحکام اور
دہشت گردي و انتہا پسندي کے خلاف پورے عزم کے ساتھ
جنگ لڑنے کے عزم کو دہرايا ہے اور امريکي صدر جارج
ڈبليو بش نے يقين
دلايا ہے کہ امريکہ پاکستان ميں جمہوريت کے
استحکام اور اس کي سالميت کیلئے بھرپور تعاون جاري
رکھے گا جبکہ وزير اعظم پاکستان سيد يوسف رضا
گيلاني نے کہا ہے کہ وہ امريکي عوام کو يقين دلاتے
ہيں کہ پاکستانيوں کي اکثريت ملک سے وفادار ہے چند
عسکريت پسند صورتحال خراب کررہے ہيں ہم ملکر
جمہوريت کے استحکام اور عالمي امن کیلئے کام کرتے
رہينگے ۔ان خيالات کا اظہار صدر بش اور وزير اعظم
سيد يوسف رضا گيلاني نے پير کو يہاں ہونے والے
ملاقات کے بعد اخبار نويسوں سے بات چيت کرتے ہوئے
کيا ۔صدر بش کے وائٹ ہاؤس کے اوول آفس ميں تقريباً
ايک گھنٹہ تک جاري رہنے والي ملاقات ميں دونوں
رہنماؤں نے دوطرفہ دلچسپي کے امور، پاکستان اور
امريکہ کے درميان تجارتي،معاشي، اقتصادي، توانائي،
سائنس و ٹيکنالوجي، دفاع، پاک بھارت مذاکراتي عمل
اور دہشت گردي کے خلاف جنگ خصوصاً افغانستان کي
صورتحال سميت ديگر امور پر تبادلہ خيال کيا اور اس
امر پر اتفاق کيا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دونوں
ملکوں کے درميان مختلف شعبوں ميں تعاون کو فروغ
حاصل ہوگا۔ صدر بش نے کہاکہ امريکہ پاکستان کي
سالميت اور يہاں جمہوريت کے استحکام کا خواہاں ہے
تاکہ اقتصادي ترقي کے ثمرات عوام تک پہنچ سکيں ۔انہوںنے
کہاکہ انتہا پسند ہمارے لئے مشترکہ خطرہ ہيں اور
ہم نے ان سے نمٹنے پر بھي بات چيت کي ہے کيونکہ يہ
انتہا ئي خطرناک لوگ ہيں ۔انہوں نے اس ضرورت پر
زور ديا کہ افغان سر حد پر پاکستان اور افغانستان
کو ملکر کام کر نا چاہيے اور کہاکہ پاکستا ن نے
مضبوط عزم کا اظہار کيا ہے کہ وہ افغانستان ميں
جمہوريت کي حمايت جاري رکھے گا اور وہ چاہتا ہے کہ
افغانستان ايک مضبوط مستحکم اور پر امن ملک بنے ۔صدر
بش نے کہاکہ ہم اس بات کو بھي سراہتے ہيں کہ
پاکستان کے وزير اعظم نے دہشت گردي اور انتہا
پسندي کي سخت الفاظ ميں مذمت کي ہے اور وہ اس کے
خلاف جنگ کي اہميت سے آگاہ ہيں ۔وزير اعظم سيد
يوسف رضا گيلاني نے کہاکہ ان کي يہ صدر بش سے
دوسري ملاقات ہے جس کیلئے وہ صدر بش کي دعوت کے
شکر گزار ہيں ۔پہلي ملاقات شر م الشيخ ميں ہوئي
تھي انہوںنے کہاکہ ہم امريکي صدرکي طرف سے جمہوريت
کي بھرپور حمايت پر ان کے شکر گزار ہيںصدر بش نے
مختلف شعبوں ميں تعاون بڑھانے ميں گہري دلچسپي کا
اظہار کيا ہے پاکستان اور امريکہ کے درميان قريبي
خوشگوار تعلقا ت ہيں اور يہ تعلقات آج قائم نہيں
ہوئے بلکہ يہ گزشتہ ساٹھ سال پر محيط ہيں جب
پاکستان قائم ہوا تھا ۔انہوںنے کہاکہ ہم آزادي اور
حق خود اراديت کا مشترکہ نعرہ لگاتے ہيں اور اب
مزيد تعاون کو فروغ دينگے ۔وزير اعظم گيلاني نے
کہاکہ ہم انتہا پسندي اور دہشت گردي کے خلاف بھي
ملکر لڑيں گے کيونکہ يہ عناصر دنيا کو غير محفوظ
بنا رہے ہيں يہ ہماري اپني جنگ ہے اور پاکستان کے
خلاف ہي يہ لوگ لڑ رہے ہيں انہوںنے کہاکہ مير ي
قائد محترمہ بے نظير بھٹو بھي انتہا پسندوں کے
ہاتھوں شہيد ہوئيں ۔ميں امريکي عوام کو يقين دلاتا
ہوں کہ پاکستانيوں کي واضح اکثريت جن ميں قبائلي
علاقے اور سرحد بھي شامل ہے وہاں کے لوگ ملک سے
وفادار ہيں وہ دنيا ميں امن اور تعاون کا فروغ
چاہتے ہيں چند عسکريت پسند موجودہ صورتحال کو خراب
کررہے ہيں ہم امريکہ کے ساتھ ملکر جمہوريت کے
استحکام اور عالمي امن کیلئے کام کرينگے ۔صدر بش
نے کہاکہ پاکستان امريکہ کا اہم اور قريبي اتحادي
ہے اور ہم اس کے ساتھ تمام شعبوں ميں تعاون کو
فروغ دينگے ۔اعليٰ سطحي ذرائع کے مطابق ملاقات ميں
وزيراعظم پاکستان نے صدر بش کو ان اقدامات سے گاہ
کيا جو پاکستان دہشت گردي و انتہاپسندي کے خاتمے
اور ملک کو درپيش ديگر سنگين چيلنجوں سے نمٹنے کے
لئے کر رہا ہے۔ انہوں نے بتايا کہ پاکستان ميں
جمہوري اداروں کو مستحکم بنايا جا رہا ہے اور
معاشي و اقتصادي استحکام کو خصوصي ترجيح دي جا رہي
ہے۔ بات چيت ميں وزيراعظم سيد يوسف رضاگيلاني کي
معاونت وزيرخارجہ شاہ محمود قريشي، وزيراطلاعات و
نشريات شيري رحمان، وزيردفاع و تجارت چوہدري احمد
مختار، وزيراعظم کے مشير داخلہ اے رحمان ملک،
وزيراعظم کے قومي سلامتي کے مشير محمود علي دراني،
امريکہ ميں پاکستان کے سفير حسين حقاني اور دفتر
خارجہ ميں ايڈيشنل سيکرٹري سہيل محمود نے کي جبکہ
صدر بش کي معاونت کرنے والوں ميں وزيرخارجہ
کنڈوليزا رائساور ديگر حکام شامل تھے۔
|