|
گڈگورننس کيلئے آزاد عدليہ کا قيام ناگزير ہے، منو
بھيل جيسے کيسز کو حل ہونا چاہيے، جسٹس افتخار
محمد چوہدري
رپورٹ : بی بی سی ون ڈاٹ نیٹ کراچي
معزول چيف جسٹس،جسٹس افتخار محمد چوہدري نے
کہا ہے کہ گڈگورننس کيلئے آزاد عدليہ کا قيام
ناگزير ہے، ہمارے وقت ميں آئين اور قانون پر عمل
ہوتاتھا۔ وکلائ تحريک کے
باعث ملک ميں آئين اور قانون کي بالادستي ہوگي،
منو بھيل جيسے کيسز کو حل ہونا چاہئے،اس سے عوام
کو ريليف ملے گا۔ ان خيالات اظہار انہوں نے بدھ کو
کراچي ميں سندھ ہائي کورٹ بار سے خطاب کرتے ہوئے
کيا ۔معزول چيف جسٹس،جسٹس افتخار محمد چوہدري کا
کہنا تھا کہ عدليہ بحالي تحريک ميں وقت گزرنے کے
ساتھ ساتھ تيزي آئي ہے اور اس ميں مزيد جان پڑ گئي
ہے۔وکلائ تحريک کے شہدائ کو بھي زبردست خراج عقيدت
پيش کرتے ہوئے معزول چيف جسٹس نے کہا کہ
12مئي
اور9اپريل
کے شہدائ نے سب سے زيادہ قرباني دي ہے ان کو نہ
بھلاياجاسکتاہے اور نہ بھلائيں گے۔انہوںنے کہا کہ
ميں سندھ بھر سے وکلائ کے خيرمقدم پر ان کا مشکور
ہوں۔انہوںنے کہا کہ آئين اور قانون کي بالادستي کے
بغير ملک ترقي نہيں کرسکتا۔چيف جسٹس نے عوام سے
کہا کہ انہيں منوبھيل کيس کو اٹھا نا چاہئے اس سے
عوام کو ريليف ملے گا۔معزول چيف جسٹس افتخا ر
چوہدري نے کہا کہ ميںامداد علي اعوان کو برسوںسے
جانتاہوں ان کي وفات پر بہت افسردہ ہيں يہ ہماري
تحريک کیلئے ايک دھچکاہے ،۔معزول چيف جسٹس کا کہنا
تھا کہ امداد علي وکلائ تحريک کے اہم رکن
تھے،وکلائ برادري اس عظيم ساتھي کے بچھڑجانے پر
سوگ ميں ہے۔انہوں نے کہا کہ اس موقع پر ہميں امداد
علي اعوان کي غم زدہ فيملي کو بھي ياد رکھنا
ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز ہونے والي تقريب
دعائيہ تقريب ميں تبديل کردي گئي کيونکہ وکلائ
برادري ايک اہم رہنما اوردوست سے محروم ہوگئي ۔چيف
جسٹس نے کہا کہ وکلائ تحريک ميں وکلائ،ميڈيا اور
عوام نے بہت بڑا اور اہم کردارادا کياہے۔
|