|
مسلم ليگ (ق) کا بائيکاٹ،شہباز شريف بلا مقابلہ
وزير اعليٰ پنجاب منتخب ہوگئے ، ج اعتماد کا ووٹ
او رحلف اٹھائينگے۔اپوزيشن اميدوار نہيں لائي تو
يہ انکا مسئلہ ہے ،ميري وزارت اعليٰ صوبے اور عوام
کے مسائل کے حل کي ضمانت ہو گي، شہباز شريف ۔
رپورٹ : بی بی سی ون ڈاٹ نیٹ لاہور
پاکستان مسلم ليگ (ق) کي طرف سے وزير اعليٰ پنجاب
کے انتخاب کے بائيکاٹ کے بعد مسلم ليگ (ن) کے
مرکزي صدر مياں محمد شہباز شريف بلا مقابلہ پنجاب
کے وزير عليٰ منتخب
ہو
گئے ‘ ج اتوار صوبائي اسمبلي کے اجلاس ميں اعتماد
کا ووٹ اور شام پانچ بجے گورنر ہاؤس لاہور ميں
اپنے عہدے کا حلف اٹھائينگے ۔گزشتہ روز مياں محمد
شہباز شريف نے پنجاب کے صدر سردار ذوالفقار علي
خان کھوسہ ‘ پيپلز پارٹي کے رہنما راجہ رياض
اوراراکين اسمبلي کے ہمراہ اسمبلي سيکرٹريٹ ميں
22کاغذات
نامزدگي داخل کروائے تاہم انکے مقابلے ميں کسي بھي
اميدوار نے کاغذات نامزدگي داخل نہيں کروائے جسکے
بعد مياں شہباز شريف بلا مقابلہ وزير اعليٰ پنجاب
منتخب ہو گئے ہيں ‘شہباز شريف ج اتوار صبح دس بجے
گورنر پنجاب کي طرف سے بلائے گئے خصوصي اجلاس ميں
اسمبلي سے اعتماد کا ووٹ لينگے اور شام پانچ بجے
گورنر ہاؤس ميں تقريب حلف برداري ہو گي جس ميں
گورنر پنجاب سلمان ان سے حلف لينگے ‘ تقريب حلف
برداري ميںمسلم ليگ (ن) کے رہنماؤں کے علاوہ پيپلز
پارٹي ‘ فنکشنل ليگ ‘ ايم ايم اے کے اراکين اسمبلي
اور رہنما بھي شريک ہونگے ۔ پنجاب اسمبلي ميں
کاغذات نامزدگي داخل کروانے کے موقع پر صحافيوں سے
گفتگو کرتے ہوئے مياں محمد شہباز شريف نے کہا کہ
ميں اپني جماعت اور اتحاديوں کا شکر گزار ہوں
جنہوں نے مجھے وزير اعليٰ کیلئے نامزد کيا ‘ انشا
اللہ ميري وزارت اعليٰ صوبے اور عوام کے مسائل کے
حل کي ضمانت ہو گي اور ہمارا ہر قدم صوبے کي فلاح
و بہبود کے لئے ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ ہماري
جدوجہد ئين اور قانون کي بالا دستي کيلئے ہو گي
اور اب اداروں کو کمزور بنانے والوں کيلئے کوئي
جگہ نہيں بلکہ اب سب کچھ ئين اور قانون کے مطابق
ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ اگر اپوزيشن جماعت ميرے
مقابلے ميں کوئي اميدوار نہيں لا رہي تو يہ انکا
اپنا مسئلہ ہے جمہوريت ميں مقابلہ ہوتا ہے اور اگر
ميرے مقابلے ميں کوئي اميدوار ہوتا تو يہ بھي
جمہوريت کا حصہ تھا ليکن اگر اب نہيں ہے تو اس
بارے ميں کچھ نہيں کہہ سکتا ۔
|