BBCONE.NET
ہم سےرابطہ کیجۓ اشتہارات ہماری پالیسی ہمارےبارےمیں

صفحہ اول    پاکستان    عالمی دنیا    ارد گرد    رو برو    کھیل    کالم و مضامین    شوبز    عالم اسلام    کامرس    مقامی خبریں

Click here to download urdu font

Click here to download urdu font

 

وقت اشاعت :Monday,09 Jun 2008, 11:03 GMT 17:03 PST

 

سوات امن معاہدہ ،وفاق اورسرحد حکومت کے درميان شديد اختلافات سامنے گئے۔افغان صدر حامدکرزئي کے اعتراضات کے بعد مشيرداخلہ رحمان ملک نے سوات امن معاہدہ ختم کرنے کااعلان کيا ۔


رپورٹ : بی بی سی ون ڈاٹ نیٹ پشاور


سوات امن معاہدہ ختم کرنے کے حوالے سے وفاقي مشيرداخلہ رحمان ملک کے بيان کے بعد اے اين پي کے صوبائي حکومت اوروفاقي حکومت کے درميان شديد اختلافات پيدا ہوگئے ہيں جبکہ سوات طالبان نے سرحد حکومت کي حمايت کااعلان کرکے معاملات کومزيد الجھا ديا ہے ۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ روزافغانستان ميں صدرحامدکرزئي کرنے کے بعدوطن واپس پہنچنے پر وفاقي مشيرداخلہ رحمان ملک نے کہا تھا کہ مقامي طالبان سے کياگيا سوات امن معاہدہ ختم ہوچکا ہے کيونکہ طالبان نے معاہدہ کي پاسداري نہيں کي تھي جس کے جواب ميں صوبہ سرحد کے سينئر وزير اوراے اين پي کے رہنمائ بشيراحمدبلور کاايک سخت بيان سامنے يا جس ميں موقف اختيارکياگيا کہ يہ سوات امن معاہدہ پاکستان رمي ،اسفنديارولي خان اورصف زرداري کي کوششوں اورباہمي رضامندي سے عمل ميں يا تھا ۔سرحد حکومت اوراس کے عوام سوات ميں خون خرابہ نہيں چاہتے تھے جس کي بدولت يہ معاہدہ وقوع پذير ہوا جسے نہ صرف سرحد کے عوام بلکہ سوات کے عوام نے بھي سراہا۔وفاقي مشيرداخلہ نے يکطرفہ طورپر بيان ديکر سرحد حکومت کے معاملات ميں بے جا مداخلت کي ہے انہيں اس معاہدے کے حوالے سے کسي قسم کا پاليسي بيان دينے سے قبل سرحد حکومت سے رابطہ کرنا چاہيئے تھاليکن رحمان ملک نے ايسے کسي بھي رابطے درخوراعتنانہيں سمجھاجس کے باعث حالات دگرگو ںہوگئے ہيں ۔وفاقي مشيرداخلہ رحمان ملک اور سينئر وزير بشير احمدبلور کے درميان بيان بازي اوراختلافات کے باعث يہ واضح ہوگئي ہے کہ بہت سے امور بشمول سوات امن معاہدے پر دونوں حکومتوں کے درميان رابطوں کافقدان پايا جاتا ہے ۔ئيني پيکج ميں صوبہ سرحد کانام پختون نخوا رکھنے ،کالاباغ ڈیم کامنصوبہ ترک کرنے اور اے اين پي کي جانب سے ججز کے مسئلے پر پيپلزپارٹي کے موقف کي بھرپور حمايت کے بعد دونوںپارٹيوں کے درميان جو گرم جوشي پيداہوئي تھي سوات امن معاہدے پر اختلافات کے باعث اس کوشديد دھچکا لگا ہے ۔دونوں جماعتوں کے درميان خليج اس وقت وسيع ہوئي جب سوات طالبان کے ترجمان مسلم خان نے في الفور بيان ديا کہ ان کاامن معاہدہ سرحد حکومت کے ساتھ ہے ناکہ مشيرداخلہ رحمان ملک کے ساتھ ۔سوات طالبان سرحدحکومت کے ساتھ امن معاہدے کي پاسداري کرتے رہيں گے۔وفاقي مشيرداخلہ اگر يہ بيان دے چکے ہيں کہ سوات امن معاہدے کے حوالے سے ان کابيان سياق وسباق سے ہٹ کراورتوڑمروڑپيش کياگيا ہے ليکن واقفان حال کاکہنا کہ افغان صدر حامدکرزئي کي جانب سے ان معاہدوں پرشديد اعتراضات کے باعث رحمان ملک نے سوات امن معاہدے پر اپنے اعتراضات کااظہارکيا تھاليکن اے اين پي کي صوبائي حکومت کي جانب سے دوٹوک موقف اختيارکرنے اوراسے صوبائي خودمختياري ميں مداخلت تصور کرنے کے بعد رحمان ملک نے اپنے موقف ميں لچک پيدا کي۔اے اين پي جوافغان حکومت کے ساتھ بھي خصوصي مراسم رکھتي ہے سوات ميں امن معاہدے پر وہ کرزئي حکومت کو کسي طرح مطمن کريگي يہ انے والا وقت ہي بتائیگا۔

 

 


 
 

 
 
 
دوست کو بھیجیں

پرنٹ کریں

صفحہ اول
 
 

Click here to watch BBCONE Videos
 
Click here
 
Click here
 
Click here for BBCONE Photos
 

SuperWebz.com

 





تمام جملہ حقوق بحق بی بی سی ون ڈاٹ نیٹ محفوظ ہیں

Bangash Broadcasting Company (pvt.) Ltd. of Pakistan