|
رياست کے ادارہ جاتي نظام ميں کمزوريوں کيوجہ سے
پاکستان کو کئي زخم لگے ‘شہريوں کيلئے اپنا ملک
جہنم بن گيا‘ جسٹس افتخار محمد چوہدري ۔پاکستان اس
وقت تاريخ کے ايک اہم موڑ پر کھڑا ہے جہاں پر ميں
نئے پاکستان کيلئے جدوجہد کرنے کا ايک نيا جذبہ
ديکھ رہا ہوں۔وکلائ نے کبھي قانون توڑنے کااقدام
کيا نہ ہي قانون کو کبھي ہاتھ ميں ليا ‘ لاہور
ہائيکورٹ بار ميں بارز ايسوسي ايشنز کے مشترکہ
اجلاس سے خطاب ۔
رپورٹ : بی بی سی ون ڈاٹ نیٹ لاہور
معزول چيف جسٹس ف پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدري
نے کہا ہے کہ چھ عشروں سے زائد پر محيط پاکستان کي
تاريخ واضح طور پر اس بات کي نشاندہي کر رہي ہے يہ
بنيادي طور ر رياست کے ادارہ جاتي نظام ميں
کمزورياں ہي تھيں جنکي وجہ سے پاکستان
کو کئي زخم لگے اور اسکے شہريوں کيلئے يہ ملک جہنم
بن گيا ‘ وکلائ کي جدوجہد ايک نئے پاکستان کے لئے
ہے جس پر ہم اور ہماري نیوالي نسليں فخر کر سکيں
گي ‘ وکلائ نے کبھي قانون توڑنے کے اقدام نہيں کيا
اور نہ ہي قانون کو کبھي ہاتھ ميں ليا ہے انکي
جدوجہد ضروري رنگ لائے گي اور ايک دن ملک ميں
عدليہ کي زادي کيساتھ مريت کا بھي خاتمہ ہوگا
جائيگا ‘ميں اپنے ملک کے عوام ميں عدليہ کي زادي
کيلئے اٹھ کھڑے ہوئے اور جدوجہد کرنے کا ايک نيا
جذبہ ديکھ رہا ہوں ‘ عدليہ کي زادي و خود مختاري
بے لاگ طور پر غير جانبداري کے ساتھ احسن طريقے سے
انصاف فراہم کرنے کيلئے نا گزير ہے ‘ پاکستان اس
وقت اپني تاريخ کے ايک انتہائي اہم اور فيصلہ کن
موڑ پر کھڑا ہے ‘ ضروري ہے کہ قانون کو بالا دست
حيثيت حاصل ہو اور کوئي بھي فرد خواہ وہ کسي بھي
اعليٰ مرتبے پر فائز کيوں نہ ہو اسے بھي قانون سے
بالا تر نہيں ہونا چاہيے ۔ان خيالات کا اظہار
انہوں نے گزشتہ روز لاہور ہائيکورٹ بار ايسوسي
ايشن ميں لاہور ہائيکورٹ بار ‘ لاہو ربار ‘ پنجاب
بار کونسل‘ ٹيکس بار او رسپريم کورٹ با رايسوسي
ايشن کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کيا ۔ اس
موقع پر سپريم کورٹ کے معزول ججز جسٹس راجہ فياض
احمد ‘ جسٹس سيد جمشيد علي ‘ جسٹس تصديق حسين
جيلاني‘ جسٹس اعجاز احمد ‘لاہو رہائيکورٹ کے معزول
ججز عمر عطا بنديال‘ جسٹس ساحر علي ‘ جسٹس اقبال
حميد الرحمن‘ جسٹس صف سعيد کھوسہ‘ جسٹس ايم اے
صديقي ‘ جسٹس خواجہ محمد شريف ‘ کراچي ہائيکورٹ کے
معزول ججز جسٹس سرمد جلال عثماني ‘جسٹس گلزار احمد
‘جسٹس مقبول باقر ‘جسٹس مشر عالم ‘جسٹس محمد اطہر
سعيد ‘جسٹس ارشد سراج ميمن ‘جسٹس عبدالرشيد کلور
اور جسٹس سلمان انصاري ‘ سپريم کورٹ بار ايسوسي
ايشن کے صدر چوہدري اعتزاز احسن‘ پاکستان بار کے
ممبر علي احمد کرد‘ پاکستان بار کے ممبر حامد خان
‘لاہور ہائيکورٹ بار کے صدر انور کمال‘ لاہو ربار
کے صدر منظور قادر‘سابقہ ججز سميت وکلائ کي بڑي
تعداد بھي موجود تھي ۔جسٹس افتخار محمد چوہدري نے
کہا کہ عدليہ کي زادي اور قانون کي حکمراني کيلئے
جاري وکلائ جدوجہد ميں جس بے مثال اتحاد اور
يکجہتي کا مظاہرہ کيا جارہا ہے وہ قابل تحسين ہے
اور اسي جدوجہد نے پوري قوم کے نہ صرف ضمير کو
جگايا بلکہ اس ميں ايک نيا ولولہ بھي پيدا کيا ہے
۔ انہوں نے کہا کہ اس تحريک ميں وکلائ اب اکيلے
نہيں بلکہ پاکستان کي ساري عوام انکي پشت پر ہے
حتيٰ کہ پوري دنيا بالخصوص جمہوري ممالک کي وکلائ
برادري بھي انکي تائيد اور حمايت کر رہي ہے‘ يہ
ہماري ملکي تاريخ کے انتہائي اہم حالات ہيں جن ميں
نہ صرف ايک نئي تاريخ رقم کي جارہي ہے بلکہ تاريخ
کو ايک نيا موڑ بھي ديا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا
کہ يہ جدوجہد ايک ايسے نئے پاکستان کيلئے ہے جس پر
ہم اور ہماري نیوالي نسليں فخر کر سکيں‘ ايک ايسا
پاکستان جسکا خواب علامہ اقبال نے ديکھا اور جس کے
لئے قائد اعظم اور انکے ان گنت ديگر زادي کے
متوالوں نے ئيني قانوني اور سياسي جدوجہد کي تاکہ
ايک ايسا پاکستان وجود ميں ئے جس ميں رياست عوام
کي بے لوث خدمت کرے ‘ عوام کے حقوق محفوظ ہوں کسي
کے ساتھ زيادتي يا نا انصاف نہ ہو پائے بلکہ
زيادتي کرنے والے ہاتھ کو خواہ وہ کتنا ہي طاقتور
کيوں نہ اسے روکا جائے اور مظلوم کي داد رسي ہو ‘
اس مقصد کيلئے ايک زاد اور خود مختار عدليہ کا
ہونا نا گزير ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ايک ايسي زاد
اور خود مختار عدليہ جسکے سامنے لوگ اپنے مقدمات
اور تنازعات تصفيہ کيلئے پيش کرنے پر رضا مند ہوں
‘ عدليہ کو ايک مضبوط اور نماياں تشخص کيساتھ
ابھارنا ہے ايک ايسي عدليہ کے طور پر جس پر لوگ
اعتبار اور بھروسہ کر سکيں جو لوگوں کي عزت اور نا
موس انکي زادي اور جان و مال کي حفاظت کر سکے ۔
جسٹس افتخار محمد چوہدري نے کہا کہ عدليہ کے تشخص
کي عمارت دو ستونوں پر قائم ہے اور وہ بنچ اور بار
ہيں جن ميں کئي حيثيتوں سے امتياز اور تفريق نہيں
کيا جاسکتي ‘ نہ صرف تشخص کي تعمير ميں بلکہ اپنے
مقررہ اہداف کے حصول ميں بھي دونوں يکجاں اور دو
قلب ہيں ۔ انہوںنے کہا کہ نظام عدل کے اہداف و
مقاصد کے حصول کو ممکن بنانے کيلئے ضروري ہے کہ ان
دونوں کے درميان تعاون اور ہم ہنگي کے رشتے قائم و
دائم ہوں ۔ عدليہ کي زادي کيلئے ايک منظمجدوجہد کي
جارہي ہے جس ميں اب سوسائٹي کے ديگر طبقات کے لوگ
بشمول سول سوسائٹي ‘ انساني حقوق کے سر گرم افراد
‘ ميڈيا ‘ طلبائ اور اہم تاجر تنظيموں‘ مختلف
ايسوسي ايشنوں اور سياسي جماعتوں کے افراد بھي
شامل ہو چکے ہيں ‘ يہ جدوجہد نہ صرف ہماري قومي
تاريخ ميں بلکہ پوري دنيا کي ئيني اور قانوني
تاريخ ميں ايک انوکھي اور نيرالي جدوجہد ہے ۔
انہوںنے کہا کہ پاکستان ميں قانون سے وابستہ افراد
عدليہ کي زادي کے حصول کے مطالبے کيلئے کبھي بھي
اتنے متحد اتنے پر عظم اور اتنے موثر نہيں رہے
جتنے ج ہيں ‘ عوام کے اندر موجود اس عزم اور جذبے
کو زيادہ دير نہيں دبايا جا سکتا جس ميں عوام
عدليہ کي زادي جمہوريت کي مکمل بحالي اور مريت کا
خاتمہ چاہتي ہو ۔ جسٹس افتخار محمد چوہدري نے کہا
کہ زاد عدليہ ملک کي بقائ اور ترقي کي ضامن ہے ‘
قرن مجيد کي متعدد يات کے علاوہ اسلامي لٹريچر بھي
ايسي باتوں سے بھرے پڑے ہيں جن ميں انصاف کي کے
قيام پر زور ديا گيا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ گزشتہ چھ
عشروں سے زائد محيط پاکستان کي تاريخ ميں ديگر
اداروں کي طرح عدليہ بھي وقتاً فوقتاً دباؤ کا
شکار اور گردش ميں رہي ‘عدليہ شديد دباؤ کا شکا
ررہي اس نے انتہائي اہم قانوني سياسي اور ئيني
معاملات پر فيصلے دئيے ‘ سپريم کورٹ کے بعض ايسے
فيصلوں کو تحسين کي نظر ديکھا گيا جبکہ بعض فيصلوں
کو ہدف اور تنقيد کا نشانہ بنايا گيا ۔ انہوں نے
کہا کہ پاکستان کے ئين کے معماروں کو انصاف رساني
کيلئے ايک ايسے نظام کے قيام کي ضرورت کا بخوبي
احساس تھا جہاں عدالتيں زاد اور خود مختار ہوں‘
قرارداد مقاصد جو اس مملکت کي زادي کے فورا ً بعد
منظو رکي گئي بعض انتہائي اہم رہنما اصولوں پر
مشتمل ہے جس ميں عدليہ کي زادي کا حصول بھي شامل
ہے ‘ جس ميں کہا گيا تھا پاکستان ايک وفاقي جمہوري
مملکت ہوگا جس ميں اسکي وحدتيں خود مختار ہونگي
بنيادي حقوق کي ضمانت دي جائے گي جن ميں حيثيت ‘
مواقع او رقانون کے اطلاق ميں برابري معاشي
معاشرتي سياسي انصاف ‘ سوچ و فکر کي زادي ‘ اظہار
رائے کي زادي ‘ عقيدے اور عبادت کي زادي اور
اجتماع کي زادي شامل ہو گي‘ عدليہ کي مکمل زادي کو
يقيني بنايا جائے گا ج وکلائ اور ديگر افراد کي
طرف سے جاري تحريک کا مقصد بھي ان مقاصد کو حاصل
کرنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس ميں کوئي شک نہيں
1973ئ
کے ئين ميں عدليہ کي زادي اور مختلف عدالتوں کے
اختيارات او رانکے حدود کار سے متعلق واضح تفصيلي
اور مخصوص احکام شامل ہيں تاکہ وہ زادي اور غير
جانبداري کيساتھ احسن طريقے سے انصاف فراہم کر
سکيں ۔ سپريم کورٹ کئي فيصلوں ميں کہہ چکي ہے کہ
عدليہ کي زادي ئين کا بنيادي حصول ہے جس سے انحراف
نہيں کيا جا سکتا ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس
وقت اپني تاريخ کے ايک انتہائي اہم اور فيصلہ کن
دہرائے پر کھڑا ہے ‘ قوم نے فيصلہ کرنا ہے کہ کيا
وہ چاہتے ہيں کہ انکے اداروں کو ضروري زادي اور
کام کرنے کے مواقع حاصل ہوں اور وہ وہيں کردار اد
اکر سکيں جو ئين ميں انکے لئے مختص ہے ؟۔ انہوںنے
کہا کہ عدليہ کو جو کردار تفويض ہوا ہے وہ ئين اور
قانون کي تعبير اور تشريح ہے اور ايک مخصوص ضابطہ
کار کي پيروي کرتے ہوئے قانون کے مطابق تنازعات کا
تصفيہ کرنا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ مہذب اقوام پر ئين
اور قانون کي حکمراني ہوتي ہے ‘ ئين ايک مقدس
دستاويزات ہے يہ ايک بالا دست قانون ہے جس کے
احکام کي تکميل ساري حکام اور اداروں بشمول مقننہ‘
انتظاميہ اور عدليہ پر بھي لازم ہے اس لئے ضروري
ہے کہ قوانين ئين کے مطابق ہوں ‘ قانون کي حکمراني
ہو ‘ شہريوں کے بنيادي حقوق اور زادياں محفوظ ہوں
اور يہ بھي ضروري ہے کہ قانون کو بالا دست حيثيت
حاصل ہو اور کوئي بھي فرد خواہ وہ کسي بھي اعليٰ
مرتبے پر فائز کيوں نہ قانون سے بالا تر نہيں ‘
قانون کي نظر ميں سب برابر ہيں اور سب کو برابر
حقوق ‘ مراعات اور تحفظات حاصل ہيں ۔ انہوں نے کہا
کہ اچھي حکمراني سے معاشرے ميں امن کے قيام ‘
کاروبار اور تجارت کے لئے بہتر ماحول کي فراہمي
ميں مدد ملتي ہے اور معاشي او رمعاشرتي ترقي سان
ہو جاتي ہے ‘ ترقي يافتہ قوموں او رحقيقي طور پر
ترقي يافتہ ممالک کي تاريخ کا جائزہ لينے سے معلوم
ہوتا ہے کہ وہا ں جمہوري نظام قائم ہے اور ئين او
رقانون کي حکمراني ہے اس لئے رياست کے مختلف
ستونوں بشمول عدليہ کي ايک اہم ذمہ داري يہ ہے کہ
وہ ايک ايسي معاشرے کے قيام ميں حکومت کي مدد کرے
جہاں قانون محترم اور قانون کي حکمراني ہو ۔
|