|
اميد ہے کہ وکلائ کا لانگ مارچ پرامن ہوگا، ہم نے
کوئي دفعہ
144
نہيں لگائي‘شيري رحمان
رپورٹ : بی بی سی ون ڈاٹ نیٹ اسلام آباد
وفاقي وزير اطلاعات و نشريات شيري رحمان نے کہا ہے
کہ لانگ مارچ ميں کسي بھي بڑے حادثے سے بچنے کيلئے
سکيورٹي اقدامات کرنا ضروري ہيں اتني بڑي ريلي ميں
کچھ بھي ہو سکتا ہے پيپلزپارٹي کے ساتھ بھي حال ہي
ميں اس طرح کے بھيانک واقعات رونما ہو چکے ہيںاميد
ہے کہ وکلائ کا لانگ مارچ پرامن ہو گا ہم نے کوئي
دفعہ
144
نہيں لگائينجي ٹي وي سے بات چيت کرتے ہوئے انہوں
نے کہا کہ ہم نے سول سوسائٹي وکلائ اور سياسي
جماعتوں کے نمائندوں اور قائدين کیلئے سکيورٹي
پلان تشکيل ديا ہے ان کي حفاظت کیلئے انتظامات کئے
گئے ہيںکسي نا خوشگوار واقعہ سے نمٹنے کیلئے
ميڈيکل ٹيموں کي سہولت دے رہے ہيں ہم نے ايسے بہت
سے لانگ مارچ کئے ہيںہم اس جمہوري عمل کو پہنچانتے
ہيں اور کہيں کوئي بھي رکاوٹ نہيں ڈالي جائے گي
انہوںنے کہاکہ وکلائ لانگ مارچ ميں پنجاب حکومت کي
بھي شرکت ہے اور سکيورٹي کے حوالے سے ہماري ان سے
ميٹنگ ہوئي ہے اسلام آباد ميں انٹرنيشنل کميوٹي
بھي موجود ہے پيپلز پارٹي اپني ريليوں ميں
27دسمبر
اور18اکتوبر
کو بہت بڑے دھماکے دیکھ چکي ہے اور بہت بڑي
قربانياں دے چکي ہے انہوںنے کہاکہ عوام کو سکيورٹي
مہيا کرنا ہر جمہوري حکومت حق ہوتا ہے اور ہم
کررہے ہيںيقيناوکلائ کا لانگ مارچ پر امن ہے اور
پرامن ہوگا پيپلز پارٹي کي ريلي بھي پر امن رہي
ہيںاور اس ميں سياسي ليڈر آج بھي اور کل بھي تھے
ان کا تحفظ حکومت کے ضروري ہوتا ہے ہم نے بھي
اپوزيشن ميں رہتے ہوئے احتجاج کيا تھا کہ ہميں
تحفظ فراہم کيا جائے ليکن اس وقت ہميں کوئي تحفظ
فراہم نہيں کيا گيا تھا انہوں نے کہاکہ ہميں کچھ
نہ کچھ اقدامات کرنے پڑيں گے حساس مقامات کاعلاقہ
ريڈ زون کہلاتا ہے پارليمنٹ ہاؤس پارليمنٹ لاجز
ايوان صدر وزير اعظم سيکرٹريٹ وزير اعظم ہاؤس
وغيرہ اس زون ميں شامل ہيںاور ان علاقوں ميں ہر
وقت سکيورٹي ہائي الرٹ رہتي ہے انہوں نے کہاکہ
ہميں اميد ہے کہ وکلائ کي تحريک پر امن ہے اور
پرامن رہے گي اور اس ميں شک و شبہ نہيں ہے اتنے
بڑي ريلي ميں کچھ بھي ہوسکتا ہے۔ايک سوال کے جواب
ميں انہوںنے کہاکہ کوئي کنٹينر نہيں لگايا گيا ہے
جو بھي ہم کريں گے اپني اتحادي جماعت اوروکلائ کے
صلاح و مشورے کررہے ہيں ہم چاہتے لانگ مارچ وکلائ
کا جمہوري حق ہے اور ہماري کوشش ہے کہ يہ لانگ
مارچ امن وامان کے ساتھ گزرے ۔ہم ابھي بجٹ پراسس
سے گزر رہے ہيں اور کل پھر اسمبلي کا اجلاس ہے اور
اس ميں بحث شروع ہوگي يہ بہت اہم بجٹ ميں اس ميں
ججز کي بحالي کیلئے ہي سپريم کورٹ ميں ججز کي
تعداد بڑھائي گئي ہے ہمارا عوام سے وعدہ تھا ہم
پورا کرينگے ہماري عوام سے التماس ہے کہ آپ اپني
نمائندہ حکومت پر بھروسہ رکھيں اور پارليمان پربھي
اعتماد رکھيں سارے فيصلے ايک جمہوري عمل اور
مشاورت کے تحت ہونگے ہماري کوشش ہے کہ ہم عام شہري
اوروکلائ کے درميان ايک تواز ن رکھيں حکومت اپنے
شہريوں کو تحفظ دے گي ہم نے کوئي دفعہ
144نہيں
لگائي ۔
|