|
افغان سفير کي دفتر خارجہ طلبي،حامدکرزئي کي دھمکي
پر شديد احتجاج،پاکستان علاقائي سالميت کا دفاع کر
نا جانتا ہے ،اشتعال انگيزبيانات سے دہشت گردي کے
خلاف تعاون متاثرہوسکتاہے ،دفترخارجہ
رپورٹ : بی بی سی ون ڈاٹ نیٹ اسلام آباد
پاکستان نے افغانستان کے صدر حامد کرزئي کے دھمکي
آميز بيان پر افغان سفير کو دفتر خارجہ طلب کر کے
شديد احتجاج کيا ہے۔دفتر خارجہ نے پير کو
افغانستان کے سفير انور انور زئي کو
طلب کر کے ان سے افغانستان کے صدر حامدکرزئي کے
بيان پر شديد احتجاج کيا اور کہا ہے کہ پاکستان
اپني علاقائي سالميت کا دفاع کر نا جانتا ہے اور
اپني سرحدي حدود ميں کسي بھي فوجي کارروائي کا حق
صرف پاکستاني فوج کو ہي حاصل ہے پاکستان کي خود
مختاري کے بارے ميں احتياط سے بات کي جائے
افغانستان کو ايسے اشتعال بيا نات سے باز رہنا
چاہيے کوئي بھي بيان جواس بنيادي اصول کي نفي کرتا
ہو، وہ دہشت گردي کے خلاف جنگ ميں مددگار ثابت
نہيں ہوسکتا اور اس کا منفي اثر ہي ہوگا۔
افغانستان کے صدر حامد کرزئي نے اتوار کو ايک پريس
کانفرنس ميں کہا تھا کہ وہ عسکريت پسندوں سے نمٹنے
کیلئے اپني فوج پاکستاني حدود ميں بھيج سکتے ہيں
جس پر افغانستان کے سفير انور انور زئي کو طلب کر
کے شديد احتجاج کيا گيا ہے ا س سے قبل وزير اعظم
يوسف رضا گيلاني نے کہا تھا کہ ہم کسي دوسرے ملک
کے اندروني معاملات ميں مداخلت کريں گے اور نہ ہي
کسي کو اپنے معاملات ميں مداخلت کرنے ديں گے يہ
ہماري اپني جنگ ہے ہم دہشت گردي اور شدت پسندي کا
خاتمہ کرنا چاہتے ہيں جو تمام برائيوں کي جڑ ہے۔
واضح رہے کہ افغانستان اکثر پاکستان پر يہ الزام
لگاتا رہا ہے کہ اس کے قبائلي علاقوں ميں طالبان
کو محفوظ پناہ گاہيں حاصل ہيں جہاں سے وہ افغان
اہداف کو نشانہ بنا سکتے ہيں
|