|
ملک اداروں کے درميان تصادم کا متحمل نہيں ہوسکتا
،شوکت عزيز سے کہا ہے کہ آ کر الزامات کا جواب ديں
مگر انہوں نے مثبت جواب نہيں ديا،صدر پرویز مشرف
کی سينئر صحافیوں سے بات چيت
رپورٹ : بی بی سی ون ڈاٹ نیٹ اسلام آباد
صدرمملکت پرویز مشرف نے کہا ہے کہ وہ اداروں
کے درميان تصادم نہيں چاہتے کيونکہ ملک اس وقت
اداروں کے درميان تصادم کا متحمل نہيں ہوسکتا ،
صدارتي کيمپ آفس ميں سينئر
صحافيوں اور کالم نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں
نے کاکہ وہ پاکستان ميں ميڈيا کي آزادي کے حق ميں
ہيں اور ميڈيا کو سب سے زيادہ آزادي ميرے دور
حکومت ميں ملي ، صدر نے کہا کہ وہ اداروں کے
درميان ہم آہنگي چاہتے ہيں کيونکہ ملک اس وقت نازک
دور سے گزر رہا ہے اور وہ اداروں کے درميان تصادم
کا متحمل نہيں ہوسکتا ۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ
حکومت کو اس وقت سب سے بڑے چيلنج کا سامنا ہے وہ
ملک کو درپيش معاشي مسائل ہيں ، انہوں نے کہا کہ
سابقہ حکومت ميں جو بھي اقتصادي سکينڈلز سامنے آئے
وہ اس وقت کي حکومت کي معاشي پاليسيوں کا نتيجہ
ہيں ، انہوں نے کہا کہ ميں نے تين چار مرتبہ سابق
وزير اعظم شوکت عزيز کو پيغام بھيجا ہے تاہم شوکت
عزيز کي طرف سے کوئي مثبت جواب نہيں ملا ، انہوں
نے کہا کہ فوج اور ان کے درميان کوئي اختلافات
نہيں ، اس حوالے سے خبريں بے بنياد ہيں ، صدر نے
کہا کہ ايوان صدر سے جمہوريت کے خلاف کوئي سازش
نہيں کي جارہي ، جمہوريت کا پيدا انہوں نے اپنے
ہاتھ سے لگايا تھا اور وہ اسے اکھاڑنا نہيں چاہتے
ذرائع کے مطابق صدر مشرف نے ميڈيا ميں اپنے اميج
کو بہتر بنانے کيلئے سينئر صحافيوں اور کالم
نگاروں سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کرديا ہے اور يہ
ملاقات بھي اسي سلسلے کي کڑي تھي ۔
|