|
پاکستان نے افغانستان کي جانب سے حامدکرزئي پر
حملے کي منصوبہ بندي کا الزام مسترد کرديا۔ڈاکٹر
عبدالقدير خان گزشتہ کئي سالوں سے کوئي سرکاري
حيثيت نہيں رکھتے، ايٹمي پھيلاؤ ميںملوث ہونے کے
الزامات غلط ہيں ، بھارت کي طرف سے
91
پاکستاني قيديوں کي اضافي فہرست کو بھي نامکمل
سمجھتے ہيں ،ترجمان دفتر خارجہ
رپورٹ : بی بی سی ون ڈاٹ نیٹ اسلام آباد
پاکستان نے افغانستان کي جانب سے صدرکرزئي پر حملے
کي منصوبہ بندي کا الزام مسترد کرتے ہوئے کہاہے کہ
افغان حکام کو سنجيدہ طرز عمل اختيارکرنا چاہئے ،
ڈاکٹر عبدالقدير
خان گزشتہ کئي سالوں سے کوئي
سرکاري حيثيت نہيں رکھتے اس لئے ايٹمي پھيلاؤ ميں
ان کا ملوث ہونے کے الزامات غلط ہيں ، بھارت کي
طرف سے
91
پاکستاني قيديوں کي اضافي فہرست مل گئي ہے ليکن
پاکستان اسے نامکمل سمجھتا ہے ،دفتر خارجہ کے
ترجمان محمد صادق نے جمعرات کو پريس بريفنگ کے
دوران بتايا کہ وزير خارجہ شاہ محمود قريشي
27
جون سے بھارت کا چار روزہ دورہ کرينگے جہاں وہ
بھارتي ہم منصب کے ساتھ باہمي دلچسپي کے امور پر
تبادلہ خيال کرينگے اور دونوں ممالک کے مشترکہ
مفاد اور خوشحالي کے لئے باہمي تعاون کو فروغ دينے
کے امکانات کا جائزہ لينگے ، انہوں نے بتايا کہ
شاہ محمود قريشي بھارت کے وزير اعظم من موہن سنگھ
اور بھارت کي سياسي قيادت سے بھي ملاقات کرينگے
اور کشميريوں رہنماؤں کے وفد سے بھي مليں گے اس کے
علاوہ بھارت ميں اپنے قيام کے دوران وزير خارجہ
چندي گڑھ ميں ديہي اور صنعتي ترکي بارے تحقيقي
مرکز ميں خطاب بھي کرينگے ، ترجمان نے کہا کہ اس
دورے سے پاکستان اور بھارت کے درميان جاري امن عمل
کو آگے بڑھانے اور تمام تصفيہ طلب وسائل کے حل ميں
مدد ملے گي ، ترجمان نے بتايا کہ جي ايٹ سربراہي
اجلاس ملائشيا کے شہر کوالالمپور ميں چار سے آٹھ
جولائي کو منعقد ہوگا ، وزير اعظم يوسف رضا گيلاني
اس اجلاس ميں پاکستان کي نمائندگي کرينگے ، انہوں
نے بتايا کہ ڈي ايٹ کا قيام اقتصادي ترقي کيلئے
عمل ميں لايا گيا تھا ، جس ميں بنگلہ ديش ، مصر ،
انڈونيشيا ، ايران ، ملائشيا ، نائيجيريا ،پاکستان
اور ترکي شامل ہيں ، انہوں نے پاک ايران مشترکہ
اقتصادي کميشن سے متعلق ايک سوال کے جواب ميں
بتايا کہ اقتصادي کميشن کا اجلاس
29,28
جون کو تہران ميں منعقد ہوگا ، جس ميں پاکستاني
وفد وزير خزانہ سيد نويد قمر کي قيادت ميں شريک
ہوگا ،آل پارٹيز حريت کانفرنس ميں اتحاد کي کوششوں
سے متعلق ايک سوال کے جواب ميں انہوں نے کہا کہ ہم
آل پارٹيز حريت کانفرنس کي جانب سے اپني صفوں ميں
اتحاد کي کوششوں کا خير مقدم کرتے ہيں اور اميد ہے
کہ انيس جون کو ہونے والي مير واعظ عمر فاروق اور
سيد علي شاہ گيلاني کي ملاقات ميں کانفرنس
کشميريوں کے حقوق کيلئے زيادہ فعال کردار ادا
کرسکے گي ، انہوں نے بتايا کہ وزير خارجہ اپنے
دورہ بھارت کے دوران بھي آل پارٹيز حريت کانفرنس
کے وفد سے ملاقات کرينگے ،ايک سوال کے جواب ميں
انہوں نے بتايا کہ محترمہ بينظير بھٹو کي شہادت کي
تحقيقات کيلئے اقوام متحدہ کا قانوني امور کا دفتر
پاکستاني درخواست کا جائزہ لے رہاہے ، جبکہ وزير
خارجہ آئندہ ماہ کے اوائل ميں امريکہ کا دورہ
کرينگے ، اور دوست ممالک کے نمائندوں سے مشاورت
کرينگے ، ايک اور سوال کے جواب ميں ترجمان دفتر
خارجہ نے کہا کہ قيديوں بارے قائم پاک بھارت
جوڈيشنل کميٹي کا پہلا اجلاس
26 فروري
2008ئ ميں اور دوسرا اجلاس
9 سے
13 جون
2008ئ
ميں پاکستان ميں منعقد ہوا،کميٹي کي سفارشات پر
دونوں ممالک قيديوں کي تازہ فہرستوں کا تبادلہ يکم
جولائي
2008ئ
کو کرينگے ، کميٹي نے پاکستان ميں قيد بھارتي
شہريوں سے گزشتہ ہفتے ملاقات کي تھي ، جبکہ بھارتي
جيلوں ميں قيد پاکستاني شہريوں سے يہ ملاقات بيس
سے
27
جولائي
2008ئ
کے درميان ہوگي ، انہوں نے بتايا کہ
9
جون کو بھارتي حکام کي جانب سے
91پاکستاني
قيديوں کي اضافي فہرست پاکستان کے حوالے کردي گئي
ہے تاہم ہم سمجھتے ہيں کہ يہ فہرست ابھي تک نامکمل
ہے اور ہميں بھارت کي جانب سے مزيد قيديوں کے
ناموں کا انتظار ہے ، انہوں نے کہا کہ جوڈيشل
کميٹي کي طرف سے قيديوں کي رہائي کے حوالے سے
معاملات بہتر بنانے کے ضمن ميں تجاويز پر عمل کيا
جارہاہے ، سوئٹزرلينڈ ميں ايک خاندان سے ڈيجيٹل
شکل ميں برآمد ہونے والے ايٹم بم کے ڈيزائن کي
پاکستاني ايٹم بم سے مماثلت کے حوالے سے ايک سوال
کے جواب ميں انہوں نے کہا کہ بعض ميڈيا رپورٹس ميں
ايسي اطلاعات شائع ہوئي تھيں کہ مذکورہ ڈيزائن
پاکستاني ايٹم بم سے ملتا ہے ، انہوں نے کہا کہ
خبر کئي سوالات کو جنم ديتي ہے ، اگراس معاملے کا
ڈاکٹر قدير سے کوئي تعلق ہے تو مذکورہ ڈيزائن کو
ضائع کيوں کرديا گيا ، مغربي تفتيش کاروں نے
ملزموں سے تفصيلي معلومات حاصل کيوں نہيں کيں؟اور
انہيں رہا کيوں کيا جارہاہے ؟انہوں نے کہا کہ اس
کيس کي فائل کے حوالے سے معلومات کا پاکستان سے
تبادلہ کيا جانا چاہئے تھا ، ترجمان نے کہا کہ کسي
ملک ميں اس سلسلے ميں پاکستان سے رابطہ نہيں کيا
جو ظاہر کرتا ہے کہ مذکورہ خبر قياس آرائي پر مبني
ہے اور پاکستان کے خلاف پراپيگنڈہ مہم کا حصہ ہے،
انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئي سالوں سے ڈاکٹر
عبدالقدير خان کي کوئي سرکاري حيثيت نہيں ہے اس
لئے وہ ايٹمي پھيلاؤ ميں کسي طرح ملوث نہيں ہوسکتے
، انہوں نے بتايا کہ امريکہ نے کوليشن سپورٹ فنڈ
کیتحت
37
کروڑ
38لاکھ
41
ہزار ڈالر کي رقم پاکستان کو منتقل کردي ہے اس ميں
سے گيارہ کروڑ نوے لاکھ ڈالر کي رقم
2007ئ
سے زير التوائ تھي ،قندھار کے گورنر کي جانب سے
ايک پريس کانفرنس ميں مبينہ خود کش حملہ آوروں کو
پاکستاني قرار دينے سے متعلق سوال کے جواب
ميںانہوں نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات ماضي ميں
طالبان کي طرف سے بھي ہوتے رہے ہيں ، يہ صرف
الزامات برائے الزامات ہيں، افغان حکام نے ہميں اب
مبينہ پاکستاني قيديوں کے بارے ميں کوئي معلومات
فراہم نہيں کيں ، انہوں نے کہا کہ افغان حکام کو
يہ بات سمجھني چاہئے کہ اس طرح کے اقدامات سے
دہشتگردي کے خلاف جنگ ميں کاميابي حاصل نہيں کي
جاسکتي ، ترجمان نے افغان صدر حامد کرزئي کے خلاف
حملے کي منصوبہ بندي ميں پاکستان کے ملوث ہونے کے
الزام کے جواب ميں کہا کہ پاکستاني قيادت نے
مذکورہ حملے کي مذمت کي ہے تاہم انہيں اس حملے ميں
کوئي گزند نہيں پہنچي،انہوں نے کہا کہ اس موقع پر
افغانستان کي طرف سے اس طرح کے اقدامات حيران کن
ہیں ، کيونکہ عالمي ميڈيا ميں آنے والي ديگر
رپورٹس ميں کہا گيا ہے کہ يہ افغانستان کي انٹيلي
جنس اور سيکورٹي کي ناکامي ہے انہوں نے کہا کہ يہ
بات سامنے آئي ہے کہ مذکورہ حملے کے بعد گرفتار
ہونے والے زيادہ تر افراد افغان حکومت کے ملازم
تھے ، جن ميں افغان وزارت دفاع کے ملازمين بھي
شامل ہيں ، انہوں نے کہا کہ پاکستان ايسي رپورٹس
پر تبصرہ نہيں کرتا يہ خالصتاً افغانستان کا
اندروني معاملہ ہے تاہم يہ بات قابل افسوس ہے کہ
افغان حکومت ميں شامل ذمہ دار افراد الزام تراشي
کو ہوا دينا چاہتے ہيں ، پاکستان اس طرح کے بے
بنياد اور غير ذمہ دارانہ بيانات کو مسترد کرتا ہے
،انہوں نے اميد ظاہر کي کہ افغان حکومت سنجيدہ طرز
عمل اختيار کرے گي تاکہ پاکستان اور افغانستان کے
درميان ماحول بہتر ہوسکے ، کيونکہ ايسي باتوں سے
نہ تو ماضي ميں کچھ فائدہ ہوا ہے اور نہ ہي مستقبل
ميں ايسي اميد ہے ، ايک اور سوال کے جواب ميں
انہوں نے کہا کہ قبائلي علاقوں ميں شرپسندوں سے
مذاکرات نہيں کئے جارہے ، حکومت قبائلي عمائدين سے
بات چيت کررہي ہے ، کيونکہ ہم سمجھتے ہيں کہ صرف
فوجي ذرائع سے مسئلہ حل نہيں کيا جاسکتااس کيلئے
سہہ جہتي حکمت عملي اپنائي جارہي ہے ، جس ميں فوج
کي موجودگي جو ضرورت کے وقت کارروائي کرے گي ،علاقہ
کيلئے سماجي واقتصادي ترقي اورمذاکرات شامل
ہيں،ايک اور سوال کے جواب ميں انہوں نے کہا کہ
بہاولپور ميں جيش محمد۰ کے کسي اجلاس کے حوالے سے
وزارت داخلہ بہتر جواب دے سکتي ہے ، انہوں نے
بتايا کہ وزير اعظم يوسف رضا گيلاني کے دورے
امريکہ کا پروگرام موجود ہے تاہم اس حوالے سے
تاريخ طے کي جانا باقي ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگر
امریکہ پاکستان کو دی جانے والی اداد کے بارے میں
تحقیقات کرانا چاھتا ہے تو کرا لے،پاکستان کو
تحقیقات کی ضرورت نہیں۔
|