BBCONE.NET
ہم سےرابطہ کیجۓ اشتہارات ہماری پالیسی ہمارےبارےمیں

صفحہ اول    پاکستان    عالمی دنیا    ارد گرد    رو برو    کھیل    کالم و مضامین    شوبز    عالم اسلام    کامرس    مقامی خبریں

Click here to download urdu font

Click here to download urdu font

 

وقت اشاعت :Thursday,01 May 2008, 09:48 GMT 14:48  PST

 

پيپلزپارٹي کے ساتھ اتحاد کو پھلتا پھولتا ديکھنا چاہتے ہيں مگر دشمن ايسا نہيں چاہتے، نواز شريف
 


رپورٹ : بی بی سی ون ڈاٹ نیٹ دوبئي

پاکستان مسلم ليگ ن کے سربراہ مياں محمد نواز شريف نے کہا ہے کہ جب تک جج بحال نہيں ہوتے ہم آرام سے نہيں بيٹھيں گے جس ملک ميں عدليہ نہ ہو اس ملک کا کوئي وقار نہيں ہے دعا ہے کہ پيپلزپارٹي سے اتحاد قائم رہے اتحاد کو بري نظر سے ديکھنے والے ملک و قوم کے دشمن ہيں ہم اتحاد کو پھلتا پھولتا ديکھنا چاہتے ہيں سمجھوتہ نہ ہوا تو حتمي فيصلہ پارليماني پارٹي کرے گي مياں نواز شريف نے دوبئي ميں آصف علي زرداري سے ملاقات سے قبل ذرائع ابلاغ سے بات چيت کرتے ہوئے کہا کہ
3 نومبر 2007ئ کو پاکستان کے ساتھ ايک بڑا سانحہ ہوا ہے اور يہ سانحہ پاکستان کو تباہ کر رہا ہے انہوں نے کہا کہ 3 نومبر کے فيصلے نے عدليہ کو تباہ کر کے ججوں کو بے روزگار کرکے گھروں ميں بٹھا ديا ہے صدر مشرف نے يہ فيصلہ کر کے قوم کے ساتھ بہت زيادتي کي ہے اور ہم اس ظلم کے خلاف کھڑے ہي ںاور جب تک جج بحال نہ ہو جائيں چين سے نہيں بيٹھيں گے انہوں نے کہا کہ پيپلزپارٹي کے ساتھ مذاکرات نتيجہ خيز ہوں گے اور اس ظلم کا خاتمہ کر کے ججوں کو عزت و آبرو کے ساتھ واپس عدالتوں ميں ليکر آئيں جس ملک ميں عدليہ نہ ہو اس کا کوئي وقار نہيں ہوتا 30 دن کے معاہدے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ججوں کو بحال کرنے کے فيصلے پر ان کا موقف اسي طرح قائم ہے تاہم پيپلزپارٹي کي طرف سے کچھ رکاوٹيں ہيں ن ليگ نے قوم سے جو وعدے کئے ہيں وہ ضرور پورے کئے جائيں گے تيس دن ميں جج بحال نہ ہو سکے ليکن وہ ضرور بحال ہوں گے پيپلزپارٹي اور ن ليگ کے اتحاد کے حوالے سے نواز شريف نے کہا کہ دعا ہے کہ دونوں جماعتوں کا اتحاد قائم رہے تاکہ قوم کي خدمت کي جاسکے اتحاد کو بري نگاہ سے ديکھنے والے ملک و قوم کے دشمن ہيں ججز کي بحالي کے حوالے سے ناکامي کے بعد اتحاد کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہا کہ ن ليگ مذاکرات کي ناکامي کي صورت ميں پارليماني پارٹي کا اجلاس بلائے گي اور پھر وہي حتمي فيصلہ کرے گيانہوں نے کہا کہ سب سے پہلي ترجيح ججوں کي بحالي ہے صدر کے مواخذہ سميت باقي باتيں بعد ميں ہوں گي جن ملکوں ميں ادارے ٹوٹ جائيں وہ ملک ’’اوپر‘‘ چلے جاتے ہيں ہميں ذاتي مفاد عزيز نہيں ہونا چاہئے انہوں نے کہا کہ ہماري کوشش ہے کہ بريک تھرو ہو جائے اس کيلئے ہم آخري حد تک جا رہے ہيں تاکہ اداروں کو بحال کيا جائے ہم اتحاد کو برقرار رکھنا اور اسے پھلتا پھولتا ديکھنا چاہتے ہيں ليکن دشمن ايسا نہيں چاہتے ۔
 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 
 
 
دوست کو بھیجیں

پرنٹ کریں

صفحہ اول
 
 

Click here to watch BBCONE Videos
 
Click here
 
Click here
 
Click here for BBCONE Photos
 

SuperWebz.com

 





تمام جملہ حقوق بحق بی بی سی ون ڈاٹ نیٹ محفوظ ہیں

Bangash Broadcasting Company (pvt.) Ltd. of Pakistan