|
مسلم ليگ (ن) او رپيپلز پارٹي کے درميان
12مئي
کو قرارداد کے ذريعے ججز کي بحالي پر اتفاق ہو گيا
۔
رپورٹ : بی بی سی ون ڈاٹ نیٹ لاہور
پاکستان مسلم ليگ (ن) او رپاکستان پيپلز پارٹي کے
درميان
12مئي
کو قرارداد کے ذريعے ججز کي بحالي پر اتفاق ہو گيا
جبکہ قرارداد کے مسودے کيلئے چھ رکني کميٹي بھي
تشکيل ديدي
گئي
ہے۔صف علي زرداري نے مذاکرات ميں کہا ہے کہ اگر
مسلم ليگ (ن) ججز کي بحالي کے ايشو پر حکومت سے
الگ ہوئي تو ہم بھي حکومت چھوڑ ديں گے جسکے بعد
مشاورت سے قرارداد کے ذريعے ججز کي بحالي کا فيصلہ
کيا گيا ۔ججز بحال نہ ہونيکي صورت ميں کل کو کوئي
ڈکٹيٹر پھر اقتدار پر قابض ہو سکتا ہے ‘ ملک ميں
ئين اور انصاف کي حکمراني ہمارا مشن ہے اور عوام
نے اٹھارہ فروري کے انتخابا ت ميں جمہوري قوتوں کو
اس لئے کامياب کروايا کہ وہ پاکستان ميں تبديلي
ديکھنا چاہتے ہيں جسے ہم ہر صور ت لائينگے ۔ ان
خيالات کا اظہا رپاکستان مسلم ليگ (ن) کے قائد
مياں نواز شريف نے گزشتہ روز ماڈل ٹاؤن ميں سنٹرل
ايگزيکٹو کميٹي اور پارليماني پارٹي کے مشترکہ
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کيا ۔ اس موقع پر پارٹي
کے مرکزي صدر مياں شہباز شريف ‘ چيئرمين راجہ ظفر
الحق ‘ پنجاب کے وزير اعليٰ دوست محمد کھوسہ
‘مرکزي رہنما جاويد ہاشمي ‘ اقبال ظفر جھگڑا سميت
پارٹي کے مرکزي و صوبائي قائدين موجود تھے ۔ نواز
شريف نے کہا کہ ججز کي بحالي کسي کا ذاتي مقصد يا
فائدہ نہيں بلکہ سولہ کروڑ عوام تمام ججز کو
عدالتوں ميں ديکھنا چاہتے ہيں اور اسي لئے اٹھارہ
فروري کو عوام نے جمہوري قوتوں کو کامياب کروايا
تاکہ انکي امنگوں کے مطابق فيصلے کئے جا سکيں ۔
انہوں نے کہا کہ ججز کي بحالي کے علاوہ بھي
پاکستان کے بہت سے مسائل ہيں ليکن جب تک يہ مسئلہ
حل نہيں ہوتا ديگر مسائل کو حل کرنا سان نہيں ‘ اس
وقت تک مريت کا خاتمہ بھي ممکن نہيں جب تک عدليہ
کو دونومبر کي پوزيشن پر بحال نہيں کيا جاتا ۔
انہوں نے کہاکہ کچھ جمہوريت دشمن قوتوں نے حکومتي
اتحاد کو نقصان پہنچانے کي بھرپور سازشيں کي ليکن
وہ اس ميں ناکام رہي ہيں ‘ہم ايسا نظام چاہتے ہيں
جس ميں تمام ادارے اپني حدود ميں رہ کر کام کريں
اور کسي بھي ڈکٹيٹر کو اقتدار پر شب خون مارنے کي
جرات نہ ہو ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مستقبل
حقيقي جمہوريت اور زاد عدليہ سے ہي وابستہ ہے اور
مجھے خوشي ہے کہ پيپلز پارٹي والے بھي بارہ مئي کو
قرارداد لانے پر رضا مند ہو گئے ہيں اور اس حوالے
سے دونوں جماعتوں کے درميان رابطوں کا سلسلہ مزيد
جاري رہيگا ۔ انہوں نے بتايا کہ ججز کي بحالي کے
لئے قرارداد کا مسودہ تيار کرنے کيلئے چھ رکني
کميٹي قائم کرنے کا فيصلہ کيا گيا ہے جس ميں پيپلز
پارٹي اور مسلم ليگ (ن) کي طرف سے تين تين ارکان
شامل ہونگے جو مسودہ تيار کرينگے اوراسکے بعد اسکي
حتمي صف علي زردار اور ميں دينگے ۔انہوںنے بتايا
کہ اس کميٹي ميں پيپلز پارٹي کي طرف سے فاروق ايچ
نائيک ‘ رحمان ملک اور حفيظ پيرزادہ ايڈووکيٹ جبکہ
مسلم ليگ (ن) کي طرف سے خواجہ حارث محمود‘ فخر
الدين جي ابراہيم جبکہ ايک رکن کے نام کا اعلان
بعد ميں کيا جائے گا ۔
|