|
مذاکرات بے نتیجہ رہے، تا ہم ضرورت پڑنے پر مزید
بات ہوسکتی ہے، نواز شریف
رپورٹ : بی بی سی ون ڈاٹ نیٹ لندن
مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ
مذاکرات میں پیش رفت نہیں ہوسکی ہے،آصف زرداری سے
بعض نکات پر اختلاف ہے،3
نومبر کو حلف لینے والے ججز ہماری نظر
میں جائز نہیں،پی پی پی کے سربراہ نے سوچنے کے لئے
مزید وقت مانگا ہے۔انھوں نے ان خیالات کا اظہار
مذاکرات کے خاتمے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا
کہ ہم نے پی سی او ججز کے لئے نرم گوشہ رکھا تاکہ
حکمران اتحاد برقرار رہے اور پی سی او ججز ایڈہاک
کے طورپر برقرار رہنے چاہئے۔مذاکرات کے دوران
دونوں فریق مسلم لیگ (ن) اور پی پی پی اپنے اپنے
موقف پر قائم ہیں۔اگر ضرورت پڑی تو ججز بحالی پر
مزید بات چیت ہوسکتی ہے۔آج کے بات چیت کا بنیادی
مقصد ججز بحالی تھا۔ایک سوال کے جواب میں نوز شریف
نے کہا کہ وہ کل واپس جارہے ہیں اور مزید
12
مئی کے بعد ہی کچھ کہ سکتے ہیں۔نواز شریف نے کہا
کہ ججز بحالی کے بعد بھی اگر مسائل ختم نہ ہوئے تو
پھر اس کا کیا فائدہ ۔ججز عزت اور وقار کے ساتھ
بحال ہونے چاہئں۔نواز شریف نے کہا کہ ہم آئین کو
12
اکتوبر
1999
والی پوزیشن پر واپس لے جائیں گے صدر نے سیاست
چمکانے اور اقتدار کو طول دینے کے لئے اداروں کو
استعمال کرکے نقصان پہنچایا۔مجھ پر کوئی غیر ملکی
دباؤ نہیں۔عدلیہ کی بحالی پاکستان کے مستقبل کا
معاملہ ہے۔
|