|
بلوچستان سے فوجی آپریشن بند کیا جائے اور لاپتہ
افراد کو فوراً بازیاب کرایا جائے۔: اختر مینگل
رپورٹ : بی بی سی ون ڈاٹ نیٹ کراچي
بلوچستان کے سابق وزیراعلی اور بلوچستان نیشنل
پارٹی کے سربراہ سرداراختر مینگل نے کہا ہے کہ ان
کی رہائی کسی خفیہ معاہدے یا قومی مفاہمتی
آرڈینینس کے تحت نہیں ہوئی۔بلکہ یہ سچ کی فتح ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ بلوچستان سے فوجی آپریشن بند کیا
جائے اور لاپتہ افراد کو فوراً بازیاب کرایا جائے۔
تقریبا دو سالہ قید سے رہائی کے کچھ ہی دیر بعد
وائس آف امریکہ کے پروگرام آج شام میں گفتگو کرتے
ہوئے سرداراختر مینگل نے کہا کہ وہ اب تک یہ نہیں
جانتے کہ ان کے خلاف کیا الزامات تھے۔ ان کا کہنا
تھا کہ انہیں پنجرے (کٹہرے) میں لا کھڑاکیا جاتا
اور پھر اگلی پیشی کی تاریخ دے کر جیل بھیج دیا
جاتا رہا۔
سابق وزیراعلی نے کہا کہ قیدوبند کی صعوبتیں ان کی
سیاسی جدوجہد میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈال سکتیں اور
وہ اس مقصد کے حصول کے لیے سو سال تک بھی سلاخوں
کا سامنا کر سکتے ہیں۔لہذا وہ سیاست سے گوشہ نشینی
اختیار نہیں کریں گے۔
اس سوال کے جواب میں کہ آیا ان کی رہائی بھی کسی
این ۔آر۔ او کے تحت ہوئی ہے، سردار اختر مینگل نے
کہا کہ ایسی ڈیل وہاں ہوتی ہے جہاں پتنگیں اڑائی
جاتی ہیں۔ اور بلوچستان میں پتنگیں نہیں اڑائی
جاتیں۔’’وہ‘‘ تو یہی چاہتے تھے کہ میں ان کے سامنے
سر جھکادوں لیکن اس میں ’’ان ‘‘ کو ناکامی ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ نئی وفاقی اور صوبائی حکومت کو
تبھی بااختیار سمجھا جائے گا جب وہ بلوچستان سے
ملٹری آپریشن بند کرواتے ہوئے فوج کو وہاں سے نکال
لے گی اور چار سال کے بچوں سے لے کر پچھتر سال کے
بزرگوں تک کی عمر کے لاپتہ افراد کو بازیاب کرائے
گی۔
سرداراختر مینگل نے کہا کہ وہ معزول ججوں کی بحالی
اور آزاد عدلیہ کی حمایت کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا
کہ خود کو ملک کا وارث سمجھنے والوں کے حق میں بھی
یہی بہتر ہے کہ عدلیہ آزاد ہو۔
|