|
100دن
ميں تبديلي کا انتظار کر رہے ہيں اس کے بعد صبر کا
پيمانہ لبريز ہو جائيگا اور تحريک کے سوا کوئي
آپشن نہيں ہوگا‘قاضي حسين احمد
رپورٹ : بی بی سی ون ڈاٹ نیٹ لاہور
جماعت اسلامي کے امير قاضي حسين احمد نے کہا ہے کہ
ہم حکومت کي طرف سے
100دن
ميں تبديلي لانے کا انتظار کر رہے ہيں ليکن اس کے
بعد صبر کا پيمانہ لبريز ہو جائيگا اور تحريک کے
سوا کوئي
آپشن نہيں ہوگا‘نئے گورنر پنجاب کي تقرري سے ثابت
ہو گيا ہے کہ اب بھي تمام اختيارات پرويز مشرف کے
پاس ہيں اور اسکي مرضي کے بغير کچھ بھي نہيں ہو
سکتا ‘وکلائ نے لانگ مارچ کا اعلاج کيا تو بھرپور
ساتھ دينگے ‘18فروري
کے بعد ملک ميں کوئي تبديلي نہيں آئي ۔ وہ گزشتہ
روز منصورہ ميں اسلامک پبلک کيشنر کي افتتاحي
تقريب کے موقع پر صحافيوں سے گفتگو کر رہے تھے ۔
اس موقع پر جماعت اسلامي کے مرکزي ڈپٹي سيکرٹري
جنرل فريد احمد پراچہ اور ديگر بھي موجود تھے ۔
قاضي حسين احمد نے کہا کہ ہم في الحال کوئي ايسا
کام نہيں کرنا چاہتے جس سے حکومتي اتحاد يا حکومت
کمزور ہو بلکہ ہم وزير اعظم يوسف رضا گيلاني کي
طرف سے
100دن
ميں تبديلي لانے کا جو وعدہ کيا گيا تھا اس کي
تکميل کے انتظار ميں ہيں اور اگر يہ وعدہ پورا نہ
ہوا تو ہمارے پاس تحريک چلانے کے سوا کوئي آپشن
نہيں ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ
18فروري
سے ابھي تک ملک ميں کوئي تبديلي نہيں آئي اور آج
بھي امريکي مداخلت عروج پر ہے اور وہ جب چاہتے ہيں
پاکستان ميں دہشتگردي کي کاروائي کر ديتے ہيں ۔
باجوڑ پر حملہ اصل ميں ہماري سالميت اور خود مختار
ي پر حملہ تھا ہميں ہر صورت امريکي غلامي سے نجات
حاصل کرنا ہوگي ۔ انہوں نے کہا کہ نئے گورنر پنجاب
کي تقرري پر پيپلز پارٹي اور مسلم ليگ (ن) کے
درميان اختلافات اس کا اندروني معاملہ ہے ليکن
لگتا ہے کہ اب بھي ايوان صدر سے جمہوريت کے خلاف
سازشيں جاري ہيں اور گورنر پنجاب کي تقرري کر کے
بھي جمہوري قوتوں کو ايک خاص پيغام ديا گيا ہے ۔
|