BBCONE.NET
ہم سےرابطہ کیجۓ اشتہارات ہماری پالیسی ہمارےبارےمیں

صفحہ اول    پاکستان    عالمی دنیا    ارد گرد    رو برو    کھیل    کالم و مضامین    شوبز    عالم اسلام    کامرس    مقامی خبریں

Click here to download urdu font

Click here to download urdu font

 

وقت اشاعت :Saturday,17 May 2008, 14:25 GMT 19:25 PST

 

ليگي دھڑوں کا اتحاد، مشاہد حسين کي ظفر اللہ جمالي کي اہم ملاقات


رپورٹ : بی بی سی ون ڈاٹ نیٹ اسلام آباد

مسلم ليگي دھڑوں ميں اتحاد کیلئے سابق وزير اعظم مير ظفر اللہ خان جمالي کي کوششيں شروع ہو گئي ہيں جبکہ مسلم ليگ (ق) اور مسلم ليگ نواز کے بعض رہنماؤں کے درميان بھي رابطے ہوئے ہيں مسلم ليگ (ق) کے سيکرٹري سينيٹر مشاہد حسين سيد نے ہفتہ کو بلوچستان ہاؤس ميں سينئر ليگي رہنما سابق وزير اعظم مير ظفر اللہ خان جمالي سے اہم ملاقات کي جس ميں ملکي کي مجموعي سياسي صورتحال معزول ججز کي بحالي اور مسلم ليگي دھڑوں کے اتحاد سميت ديگر اہم قومي امور پر بات چيت کي گئي ۔با خبر ذرائع نے اين اين آئي کو بتايا کہ مشاہد حسين سيد کي مير ظفر اللہ خان جمالي سے ايک گھنٹہ سے زائد دير تک جاري رہي۔ ملاقات کے دور ان سابق وزير اعظم مير ظفر اللہ خان جمالي کے پوليٹيکل سيکرٹري سيد يحييٰ منور بھي موجود تھے ذرائع کا کہنا ہے کہ ملاقات ميں ملک کي مجموعي سياسي صورتحال اور حکمران اتحاد ميں پائے جانے والے اختلافات اور مسلم ليگي دھڑوں کو متحد کر نے کے امورپر بات چيت کي گئي ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ رات ايراني سفارتخانے ميں مير ظفر اللہ جمالي اور مشاہد حسين سيد کي اچانک ملاقات ہوئي تھي جس ميں يہ طے کيا گيا کہ ہفتہ کو باضابطہ ملاقات کي جائیگي ذرائع کا کہنا ہے کہ مشاہد حسين سيد نے مير ظفر اللہ جمالي کو ان کي صحتيابي پر مبارکباد دي اور جب وہ کراچي کے ہسپتال ميں زير علاج تھے تو مشاہد حسين کي طرف سے تين مرتبہ ٹيليفون پر کر کے خيريت دريافت کر نے پر ان کا شکريہ ادا کيا اور اس بات کا شکوہ کيا کہ اگر آپ ٹيليفون پر صحت بارے پوچھ سکتے ہيں تو چوہدري شجاعت حسين ايسا کيوں نہيں کرسکتے ؟ذرائع کا کہنا ہے کہ اس ملاقات ميں مسلم ليگ کے اتحاد کے معاملات پر بات چيت ہوئي ہے اور آئندہ رابطوں کو موثر بنانے پر زور ديا گيا ذرائع کا يہ بھي دعويٰ ہے کہ آئندہ ہفتے ميں چوہدري شجاعت حسين مير ظفراللہ خان جمالي کي ملاقات بھي متوقع ہے جبکہ مير ظفر اللہ خان جمالي بھي آئندہ ہفتے مسلم ليگ (ن) کے قائد مياں نواز شريف اور مسلم ليگ فنکشنل کے سربراہ پير صاحب پگاڑا سے الگ الگ ملاقاتيں کريں گے سياسي حلقوں ميں جمالي نواز رابطوں کو اہميت دي جارہي ہے اور حکمران اتحاد کے درميان اختلافات کے بعد مسلم ليگ کے اتحاد کیلئے بات چيت کا شروع ہونا اہم پيشرفت قرار ديا جارہا ہے ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مستعفي وزير پٹروليم اور مسلم ليگ نواز کے مرکزي رہنما خواجہ محمد آصف اور خواجہ سعد رفيق کے مسلم ليگ (ق) کے دو مرکزي رہنماؤں سے ٹيليفون پر رابطے ہوئے ہيں جبکہ چوہدري نثار علي خان اور چوہدري شجاعت حسين کے درميان بھي اچانک ملاقات ہو چکي ہے ذرائع کے مطابق مسلم ليگ (ن) کي پيپلز پارٹي سے اتحاد کے خاتمہ کي صورت ميں مسلم ليگ (ق) کے اندر دو آرائ پائي جارہي ہيں اتحاد ٹوٹنے کے بعد مسلم ليگ (ق )پيپلز پارٹي کا ساتھ دے يا مسلم ليگ نواز کے ساتھ مفاہمت کي جائے جبکہ صدر پرويز مشرف نے واضح طورپر ق ليگ کے رہنماؤں سے کہا ہے کہ مسلم ليگ نواز کے ساتھ اتحاد کا سوال ہي پيدا نہيں ہوتا اور ق ليگ کو نواز ليگ سے رابطوں ميں محتاط رہنا پڑے گا جبکہ مسلم ليگ (ق) کے باعث ايسے رہنما جو پيپلز پارٹي کے ساتھ کسي صورت مفاہمت کیلئے تيار نہيں ہيں ان کي رائے ميں مسلم ليگ نواز کیساتھ مفاہمت ہوني چاہيے اور اس سلسلے ميں مسلم ليگ (ق) کے رہنما حامد ناصر چٹھہ کا کہنا ہے کہ ابھي کوئي بات چيت شروع نہيں ہوئي جب حکمران اتحاد باضابطہ طورپر ٹوٹے گا تو اس وقت پيپلز پارٹي بھي ہمارے پاس آئے گي اور مسلم ليگ نواز بھي رابطہ کرے گي اور ہم ديکھيں گے کہ کيا فيصلہ کيا جائے جو فيصلہ ہوگا متفقہ ہوگا جبکہ چوہدري شجاعت حسين اور ان کے قريبي ساتھيوں کي يہ رائے ہے کہ مسلم ليگ (ق) کو پيپلز پارٹي ميں شامل ہونے کي بجائے اپوزيشن کا کر دار ادا کر نا چاہيے تاکہ مسلم ليگ کو مضبوط اور موثر بنايا جا سکے ۔آئندہ ہفتے ان امورپر اہم پيشرفت متوقع ہے ۔

 


 
 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 
 
 
دوست کو بھیجیں

پرنٹ کریں

صفحہ اول
 
 

Click here to watch BBCONE Videos
 
Click here
 
Click here
 
Click here for BBCONE Photos
 

SuperWebz.com

 





تمام جملہ حقوق بحق بی بی سی ون ڈاٹ نیٹ محفوظ ہیں

Bangash Broadcasting Company (pvt.) Ltd. of Pakistan