|
اعتزاز احسن نے لانگ مارچ کو کامياب بنانے کیلئے
ضمني انتخابات سے دستبرداري کااعلان کرديا۔
رپورٹ : بی بی سی ون ڈاٹ نیٹ لاہور
سپريم کورٹ بار ايسوسي ايشن کے صدر اعتزاز احسن نے
لانگ مارچ کو کامياب بنانے کیلئے ضمني انتخابات سے
دستبرداري کااعلان کر تے ہوئے کہا ہے کہ ميرے لئے
ضمني انتخابات سے زيادہ اہم وکلائ تحريک ہے جس
کیلئے اپني توانائياں صرف کروں گا ،10مارچ
کو لانگ مارچ سے قبل جج بحال ہوگئے تو پھر جشن
منائيں گے ،يہ تحريک کافيصلہ کن معرکہ ہوگا ،لانگ
مارچ کوکامياب بنا نا عوام کافريضہ ہے ۔يہاں پريس
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ
17فروري
کو وکلائ کا نمائندہ اجلاس ہوا جس ميں ملک کے طول
وعرض سے وکلائ کے نمائندوں نے شرکت کي ۔ميں ان
کاممنوں ہوں کہ انہوں نے ميري ذات پر اعتماد کيا
اور لانگ مارچ کے حوالے سے تمام اختيارات مجھے
دئيے ۔انہوں نے کہاکہ10جون
کو لانگ مارچ کاآغاز ملتان سے ہوگا جس ميں سندھ
اوربلوچستا ن کے وکلائ بھي شريک ہوں گے لانگ مارچ
کے شرکائ ساہيوال اوراوکاڑہ بارسے خطاب کرتے ہوئے
لاہورپہنچے گے اور
11جون
کو لانگ مارچ کے شرکائ گجرانوالہ ،گجرات اور جہلم
بارز سے خطابات کرتے ہوئے اسلام آباد پہنچيں گے
جبکہ اسي روز پشاورسے بھي لانگ مارچ اسلام آباد
پہنچے گا ۔انہوں نے کہاکہ لانگ مارچ کے بعد وکلائ
تحريک ختم نہيں ہوگي ۔ججز کي بحالي کیلئے ہم اور
بھي کئي مراحل سوچ رکھے ہيں جن کے بارے ميں بعد
ميں اعلان کيا جائے گا ۔ انہوں نے کہاکہ اگر
10مارچ
کے لانگ مارچ سے قبل حکومت ججز کوبحال کرديتي ہے
تو يہ صدرپرويز مشرف کي شکست ہوگي اورہم جشن
منائيں گے ۔ملک بھر ميں چراغاں ہوگا جبکہ چراغاں
کیلئے بھي ہم واپڈا پر بوجھ نہيں بنيں گے موم
بتيوں کاچراغاں کرا کردکھائيں گے ۔ اعتزاز احسن نے
کہاکہ
18فروري
کے انتخابات کے دوران ميں نے وکلائ کے نمائندوں خط
لکھا تھاکہ انتخابات کابائيکاٹ نہ کياجائے کيونکہ
جب سياسي جماعتيں انتخابات ميں حصہ لي رہي ہيں تو
ہمارے بائيکاٹ کاکوئي فائدہ نہيں ۔مگر پاکستان بار
کونسل نے ميري اس تجويز کو کوئي اہميت نہيں تھي
چونکہ اس ميں ميں پابند سلاسل تھااس لئے اپنے موقف
پر دليل نہيں دے سکا۔چنانچہ پاکستان بار کونسل کي
طرف سے انتخابات کے بائيکاٹ کے فيصلے کے مطابق ميں
نے بھي انتخابات ميں حصہ نہ لينے کافيصلہ
کياکيونکہ پاکستان بار کونسل کے فيصلے کے برعکس
اگر ميں انتخابات ميں حصہ ليتا تو وکلائ تحريک
منتشر ہوجاتي حالانکہ اس وقت ميرے لئے قومي اسمبلي
کاممبربننا بہت آسان تھا۔انہوں نے کہاکہ لانگ مارچ
کو کامياب بنانے کیلئے وہ روالپنڈي کے حلقہ اين اے
55سے
ضمني انتخابات سے دستبردار ہورہے ہيں اوراس حوالے
سے انہوں نے پيپلزپارٹي کے شريک چيئرمين آصف علي
زرداري کوآگاہ کرديا ہے جبکہ مسلم ليگ (ن) کو بھي
ميں نے بتادياتھاکہ ميں نے ججز کي بحالي کاعزم
کررکھاہے جو غيرمتزلل ہے اس لئے وکلائ تحريک کي
جانب ميري توجہ زياد ہ ہوگي۔سپريم کورٹ بارايسويسي
ايشن کے صدر نے کہاکہ يہ موقع ملک کي تاريخ کے اہم
موڑوں ميں سے ايک ہے اور وکلائ تحريک کو کامياب
بنانے کیلئے ميري تمام ترتوانائياں صرف ہوں گي يہ
فيصلہ کن معرکہ ہوگا۔انہوں نے کہاکہ ميرے ضمني
انتخاب نہ لڑنے کي دوسري وجہ يہ ہے کہ ميں اپني
جماعت پيپلزپارٹي کو مشکل صورتحال ميں نہيں ڈال
سکتا کيونکہ ميں نہ پارٹي اورنہ ہي وکلائ تحريک
چھوڑ سکتا ہوں ۔پارٹي ٹکٹ لے کرانتخابات ميں حصہ
لينا اورپھر وکلائ تحريک کے ساتھ بھي ہونا متضاد
ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ميري عوام ،سول سائٹي ،وکلائ
،سياسي کارکنوں اورتاجربرداري سے اپيل ہے کہ وہ
ضمانت ديں ۔صدر پرويزمشرف کي طرف سے برطرف کيے
جانے والے ججوں کودوبارہ اپنے منصبوں پر بٹھائيں
گے ۔ انہوں نے کہاکہ ججز کي بحالي کیلئے ہم نے نئي
حکومت کوٹائم ديا ۔اعلان مري ميں اس کاوعدہ کياگيا
حالانکہ ہم نے اس سلسلے ميں کوئي دباونہيں ڈالا
تھا مگر اس کے باوجود ججز کوبحال نہيں کياگيا ۔انہوں
نے کہاکہ حکومت کے پاس اب بھي وقت ہے کہ وہ صدر
مشرف اورملک قيوم کي طرف سے نکالے گئے ججوں کو
بحال کردے ۔انہوں نے کہاکہ وکلائ کے لانگ مارچ کو
کامياب بنانا عوام کافريضہ ہے ۔انہوں نے کہاکہ
ہمارا نعرہ يہ ہوگا کہ ’’ہم ملک بچانے نکلے ہيں
آوہمارے ساتھ چلو۔ہم جج بحال کرانے نکلے ہيں
آوہمارے ساتھ چليں ۔ايک سوال کے جواب ميں انہوں نے
کہاکہ ہمارا جي ايچ کيوکے گھيراو کاہرگزکوئي ارادہ
نہيں ۔وکلائ چيف آف آرمي سٹاف جنرل اشفاق کياني کے
اب تک کے رويے سے مطمئن ہيں اور ان کي جانب سے فوج
کوسياست سے الگ رکھنے کاخيرمقدم کر ہيں ۔اعتزازاحسن
نے کہاکہ ابھي تک ايوان صدر سے سازشيں ہورہي ہيں ۔
|