|
کسي ايسي حکومتي پيشکش کو قبول نہيں کرينگے جو
آئين ‘قانون کیخلاف ہو‘ نہ ہي وکلائ تحريک سے
غداري کي جائيگي ‘جسٹس خواجہ محمد شريف
رپورٹ : بی بی سی ون ڈاٹ نیٹ لاہور
لاہور ہائيکورٹ کے معزول جسٹس خواجہ محمد
شريف نے کہا ہے کہ ہم کسي بھي ايسي حکومتي پيشکش
کو قبول نہيں کرينگے جو آئين اور قانون کیخلاف
ہواور نہ ہي وکلائ تحريک سے غداري
کي
جائيگي ‘حکومت کو کسي نے بھي مہنگائي ‘بیروزگاري
اور ديگر مسائل کے حل سے نہيں روکا ‘ہم آئين
‘قانون اور انصاف کي سربلندي کيلئے جدوجہد کر رہے
ہيں ‘حکومتي اتحاد کي طرف سے اعلان مري اور
12مئي
کي ڈيڈ لائن کے باوجود ججز بحال نہيں ہوئے ليکن ہم
اس کے باوجود مايوس نہيں ‘وزير قانون فاروق ايچ
نائيک نے مشروط بحال کي پيشکش کي تھي جو ايسے تھي
جيسے پرويز مشرف کے
2نومبر
کے اقدامات کو قبول کرنا ہے اس لئے ہم نے يہ آفر
ٹھکرا دي تھي تمام فيصلے جسٹس افتخار محمد چوہدري
کي سربراہي ميں کرينگے۔ ان خيالات کا اظہار انہوں
نے گزشتہ روز ايوان عدل ميں وکلائ سے خطاب کرتے
ہوئے کيا ۔ اس موقع پر معزول جسٹس اقبال حميد
الرحمن ‘جسٹس شاہد صديقي ‘لاہور بار کے صدر منظور
قادر‘سيکرٹري جنرل لطيف سرائ بھي موجود تھے ۔
خواجہ محمد شريف نے کہا کہ وہ وقت دور نہيں جب
وکلائ کي تحريک رنگ لائے گي اور تمام معزول ججز
آئين اور قانون کے مطابق اپنے عہدوں پر دوبارہ
بيٹھيں گے ۔ کچھ لوگ ججز کي بحالي کے مسئلے کو پس
پشت ڈال کر مہنگائي ‘بے روزگاري اور ديگر مسائل کي
بات کر رہے ہيں ليکن وہ ياد رکھيں کہ ہم ججز کي
بحالي کے مسئلے کو پس پشت ڈالنے کي اجازت نہيں
دينگے ہم نے حکومت کو ديگر مسائل کے حل سے نہيں
روکا وہ انہيں حل کرے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کي
طرف سے جو آفر کي گئي تھي اس ميں کہا گيا تھا کہ
آپ کو دوبارہ تعينات کيا جائيگا جس پر ہم نے نہ صر
ف اپنا اجلاس بلايا بلکہ چيف جسٹس افتخار محمد
چوہدري سے بھي رابطہ کيا جس کے بعد ہم نے حکومت کي
پيشکش کو ٹھکرا ديا اور کسي بھي صورت
2نومبر
کے اقدامات کو درست نہيں قرار ديا جا سکتا ۔ انہوں
نے کہا کہ يہ بھي بدقسمتي ہے کہ خود کو جج کہنے
والے آج کچھ نام نہاد آمريت کي حمايت کر رہے ہيں
اور عدليہ کي آزادي کي بھي بات کرتے ہيں ليکن ہم
موجودہ عدليہ کو تسليم نہيں کرتے ۔ انہوں نے کہا
کہ ہم اس وقت تک چين سے نہيں بيٹھيں گے جب تک ملک
ميں عوامي جمہوري حکومت آئين اور قانون کي بالا
دستي اور عدليہ مکمل طور پر آزاد نہيں ہو جاتي ۔
انہوں نے کہا کہ معزول ججز نے پہلے بھي آمريت اور
اسکے حواريوں کا ڈٹ کر مقابلہ کيا ہے اور آئندہ
بھي اسي طرح انکا مقابلہ کيا جائيگا۔ انہوں نے کہا
کہ جو لوگ عدليہ کي بحالي کي مخالفت کر رہے ہيں وہ
قوم کي نہيں بلکہ ذاتي مفادات کي خاطر سب کچھ کر
رہے ہيں اور قوم ايسے لوگوں کو معاف نہيں کريگي ۔
انہوں نے کہا کہ جب تک افتخار محمد چوہدري کو
غريبوں کے مسائل حل کرنے اور حکومت ميں بيٹھے مگر
مچھوں سے پوچھ گوچھ کرنے پر ڈکٹيٹر نے گھروں ميں
بند کر ديا ليکن اس کے باوجود ہمارے حوصلے بلند
ہيں اور وہ وقت دور نہيں جب تمام ججز اپنے عہدوں
پر دوبارہ بيٹھيں ۔ جسٹس افتخار چوہدري ہي پاکستان
کے آئيني چيف جسٹس ہيں ۔ منظور قادر نے کہا کہ
9جون
کو جسٹس افتخار محمد چوہدري کا لاہور آمد پر
شاندار استقبال کيا جائيگا اور اس حوالے سے وکلائ
تنظيموں کے علاوہ تاجر برادري ‘سياسي جماعتوں اور
مختلف مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کيساتھ
رابطوں ميں ہيں ۔ انہوں نے کہا کہ
10جون
تک ججز بحال نہ ہوئے تو ہر صورت لانگ مارچ ہو گا
جس کے آگے حکومت کا ٹھہرانا ممکن نہيں ہوگااور جو
لوگ يہ کہتے ہيں کہ ايک وقت ميں دو ‘دو چيف جسٹس
نہيں ہو سکتے وہ ياد رکھيں کہ چيف جسٹس ايک ہيں جس
کا نام افتخار محمد چوہدري ہے ۔ اس موقع پر ديگر
نے بھي خطاب کيا ۔ تينوں معزول ججز کا ايوان عدل
پہنچنے پر شاندار استقبال کيا گيا اور پھولوں کي
پتياں نچھاور کي گئيں ۔
|