|
ہنگو میں جشن نو روز کے موقع پر جھڑپیں،24
آفراد زخمی، فائر بندی ہو گئی۔
رپورٹ : بی بی سی ون ڈاٹ نیٹ ہنگو
ھنگو میں جرگہ کے فیصلے کے مطابق فائر بندی ہو گئی
ہے،موصلہ اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ رات کے آٹھ
بجکر دس منٹ پر فائر بندی ہو گئی ہے۔تام علا قے
میں خوف و ھراس کی فضا برقرار ہے۔
وقت اشاعت :Friday,21
March 2008, 13:10 GMT 18:10 PST
رپورٹ : بی بی سی ون ڈاٹ نیٹ ہنگو
ہنگو میں شیعہ سنی مشران پر مشتمل جرگہ نے فوری
طور پر فریقین کے درمیان فائر بندی کا فیصلہ کیا
ہے۔ جرگہ میں ممبر قومی اسمبلی پیر حیدر علی شاہ،
ڈی سی او، ڈی پی او اور شیعہ سنی مشران
شامل
ہیں۔ پیر حیدر علی شاہ نے فون پر بی بی سی ون کو
بتایا کہ جرگے میں فیصلہ ہوا کہ رات سے پہلے پہلے
فریقین فائر بندی کر کے تمام مورچے خالی کر دیں گے۔
خلاف ورزی کرنے والے فریق کو
50
لاکھ روپے جر مانہ کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ
فیصلے کے مطابق اگر فریقین نے فائر بندی نہیں کی
تو فوج کو کاروائی کرنے کا اختیار ہوگا۔ ایک سوال
کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ زخمیوں کا تو صحیح
پتہ نہیں چل رہا تاہم پندرہ یا سولہ افراد زخمی
ہونے کی اطلاع ہے۔ ہنگو سے صحفی اسرار احمد
اورکزئی نے بی بی سی ون کو بتایا کہ جرگہ ہوا ہے
لیکن ابھی تک فائر بندی نہیں ہوئی ہے۔ بھاری
ہتھیار مسلسل استعمال ہو رہے ہیں۔ اسرار احمد
اورکزئی کے مطابق زخمیوں کی تعداد
26
ہو گئی ہے۔ تاہم سرکاری ذرائع نے زخمیوں اور
ہلاکتوں کے بارے میں مکمل لا علمی ظاہر کی ہے۔
وقت اشاعت :Friday,21
March 2008, 07:55 GMT 00:55 PST
رپورٹ : بی بی سی ون ڈاٹ نیٹ ہنگو
صوبہ سرحد کے جنوبی شہر ہنگو میں جشن نو روز کے
موقع پر جھڑپیں شروع ہو گئی۔ ہلکے اور بھاری
ہتھیاروں کی آواز سے علاقہ گونج رہا ہے۔
24افراد
زخمی ہو گئے ہیں۔ہنگو سے صحافی اسرار احمد اورکزئی
نے بی بی سی ون کو بتایا کہ مخالف گروپوں کی طرف
سے فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ اس واقعہ میں ابھی تک
آٹھ افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ شہر میں کرفیو نافذ ہے۔
پورا شہر بھاری ہتھیاروں کی فائرنگ سے لرز رہا
ہے۔اس سلسلے میں پولیس تھانہ ہنگو کے ایک اہلکار
نے بی بی سی ون کو بتایا کہ آج ہنگو میں جشن عید
میلاد النبی صلعم منایا جا رہا تھا اور اہلتشیع
جشن نو روز منا رہے تھے کہ نزدیکی علاقوں سے
فائرنگ شروع ہو گئی۔ چونکہ پولیس نے ناکہ بندی کر
دی تھی اس لئی فائرنگ سے ایک پولیس اہلکار زخمی
ہوگیا ہے۔
واضح رہے کہ جشن نو روز کے موقعہ پر پہلے بھی ہنگو
میں فرقہ وارانہ فسادات ہوتے رہے ہیں جس میں
درجنوں لوگ جانبحق اور سینکڑوں زخمی ہو گئے ہیں۔
ہنگو میں فرقہ وارانہ فسادات اور پھر جھڑپوں کے
دوران ہر قسم کے بھاری اسلحے کا آزادانہ استعمال
معمول بن چکا ہے۔
|