BBCONE.NET
ہم سےرابطہ کیجۓ اشتہارات ہماری پالیسی ہمارےبارےمیں

صفحہ اول    پاکستان    عالمی دنیا    ارد گرد    رو برو    کھیل    کالم و مضامین    شوبز    عالم اسلام    کامرس    مقامی خبریں

Click here to download urdu font

Click here to download urdu font

 

وقت اشاعت :Friday,18 April 2008, 14:12 GMT 19:12  PST

 

بگڑے رئيس زادوں نے سکول جاتے ہوئے يتيم بہن بھائي کو اغوا کر ليا ، نابالغ لڑکي کے ساتھ چار روز تک زيادتي


رپورٹ : بی بی سی ون ڈاٹ نیٹ ٹھٹھہ صادق آباد


 بگڑے رئيس زادوں نے سکول جاتے ہوئے يتيم بہن بھائي کو اغوائ کر ليا ، اسلام آباد کے ایک نیوز ایجنسی کے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق نابالغ لڑکي کے ساتھ چار روز تک زيادتي، لاہور لے جاکر بے يارو مددگار چھوڑ ديا ،بڑا بھائي واپس لے کر آيا ، تعليمي سلسلہ موقوف ،مستقبل تباہ ہونے کا خدشہ،بچوں کو خوف کے باعث نامعلوم جگہ منتقل کر ديا گيا ،بيوہ ماں کو خاموش رہنے کے ليے وڈيروں کي دھمکياں ،آج ہونے والي پنچايت ميں معاملہ دبا ديے جانے کا امکان،عوامي شخصيات کي جانب سے حقوق انساني کي تنظيموں اور وزير اعظم پاکستان سے نوٹس ليے جانے کا مطالبہ ۔تفصيل کے مطابق ٹھٹھہ صادق آباد کے نواحي علاقہ چک نمبر 140/10-Rکي رہائشي خاتون سکينہ بي بي نے اپنے ديور عبدالرشيداور بيٹے محمد اصغر کے ہمراہ صحافيوں کو بتايا کہ اس کا خاوند فوت ہو چکا ہے اور وہ چک مذکورہ سے ترک سکونت کر کے اڈہ پل چودہ کے قريب سردار ٹاؤن ميں رہائش پزير ہے مورخہ 4اپريل کو اس کي 13سالہ بيٹي رفيہ بي بي اور 10سالہ بيٹے طاہر محمود کو پل چودہ پر واقع سکول مثالي کيڈٹ سکول ميں پڑھنے کے ليے جاتے ہوئے راستے ميں اغواہ کر ليا گيا جس کے بارے ميں معلوم ہوا ہے کہ اسے علاقے کے زميندار حاجي اسلم لوٹھڑ کے بيٹے سہيل لوٹھڑ،جاويد لوٹھڑنے اپنے تين ملازموں کے ہمراہ اغوائ کر ليا ہے اور وہ انہيں ملتان لے گئے جہاں وہ ان کے ساتھ چار روز تک زيادتي کرتے رہے اور وہ بعد ازاں بيٹے اور بيٹي کو لاہور لے گئے اور انہيں داتا دربار پر بے يارو مددگار چھوڑ ديا گيا بعد ازاں ميرے بيٹے محمد اصغر نے جو کہ لاہور کے ايک ہوٹل ميں ملازم ہے بڑي مشکلوں سے اسے ڈھونڈا اور واپس لے کر آيا ۔بيوہ کے گھر ميں مشاہدے کے دوران يہ بات سامنے آئي کہ ظلم کا شکار بچے اور بچي کي والدہ شديد خوف و ہراس کا شکار ہے اور اس کو دباؤ کے ذريعے خاموش رہنے کي دھمکياں دي جا رہي ہيں جبکہ ملزمان نے اس مسئلہ پر پنچايت بھي طلب کي ہے جو کہ آج بروز ہفتہ سردار ٹاؤن ميں منعقد ہو رہي ہے اور بيان کيا جاتا ہے کہ اس پنچايت ميں اس سنگين معاملے کو دبا ديا جائے گا ۔يہ بھي معلوم ہوا ہے کہ ظلم کا شکار بچي رفيعہ بي بي چھٹي کلاس کي طالبہ تھي جو کہ امتحان کے بعد اب ساتويں ميں منتقل ہوئي تھي جبکہ بچے طاہر محمود نے پنجم بورڈ کا امتحان دينا تھا ان بچوں کا تعلق انتہائي غريب خاندان سے تھا اور سکول انتظاميہ نے غربت کے باعث ان کي فيسيں بھي معاف کر رکھي تھيں ليکن اس ظلم کي وجہ سے ان کا مستقبل تاريک ہو چکا ہے بيوہ ماں نے خوف کے باعث بچوں کو نامعلوم مقام پر منتقل کر ديا جس کي وجہ سے ان کا تعليمي مستقبل خطرے ميں پڑ چکا ہے ۔بيان کيا جاتا ہے کہ ظلم کا شکار بچي کا ابھي تک ميڈيکل کروايا گيا ہے اور نہ ہي کسي متعلقہ تھانے کو کانوں کان خبر ہو سکي ہے جبکہ علاقے علاقے کے وڈيرے اس معاملے کو دبانے پر زور دے رہے ہيں اور اس سلسلے ميں آج بروز ہفتہ سردار ٹاؤن ميں پنچايت طلب کي گئي ہے جس ميں يہ سنگين معاملہ ہميشہ کے ليے دبا ديا جائے گا ۔اہل علاقہ نے حقوق انساني کي تنظيموں،صدر پاکستان پرويز مشرف ،وزير اعظم يوسف رضا گيلاني اور آئي پنجاب سے معاملے کي تحقيقات ،ظلم کا شکار بچي کے ميڈيکل اور غريب خاندان کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کيا ہے۔

 

 

 

 
 
 
دوست کو بھیجیں

پرنٹ کریں

صفحہ اول
 
 

Click here to watch BBCONE Videos
 
Click here
 
Click here
 
Click here for BBCONE Photos
 

SuperWebz.com

 





تمام جملہ حقوق بحق بی بی سی ون ڈاٹ نیٹ محفوظ ہیں

Bangash Broadcasting Company (pvt.) Ltd. of Pakistan