|
مردان، سٹي تھانہ کے پاس کاربم دھماکہ، ایک پولیس
افسر سمیت
4
افراد جاں بحق،پندرہ اہلکاروں سمیت
35
زخمي ہوگئے،
20دوکانیں
مکمل تباہ، قریبي عمارتوں ميں دراڑیں پڑگئیں،
مقامی طالبان نے ذمہ داري قبول کر لي۔
رپورٹ : بی بی سی ون ڈاٹ نیٹ مردان
مردان پولیس تھانہ سٹي کے پاس کار بم دھماکہ ایک
پولیس آفیسر سمیت چارافراد جاں بحق جبکہ پندرہ
پولیس اہلکاروں سمیت35افراد
زخمي ہوگئے چھ زخمیوں کو تشویشناک حالت کے پیش نظر
مردان ہسپتال سے لیڈي ریڈنگ ہسپتال منتقل کردےئے
گئے دھماکہ سے تھانہ کے قریب واقع مارکیٹ ميں20دوکانیں
مکمل طور پر تباہ قریبي مکانات ،دفاتر اور عدالت
کے عمارات ميں دراڑیں بجلي کا نظام درہم برہم
دھماکے کي آواز پندرہ کلومیٹر تک سنائي گئي سات
زخمي مردان میڈیکل ہسپتال کیمپلکس منتقل کردےئے
دھماکے ميں شہید ہونے والوں ميں اسسٹنٹ سب انسپکٹر
فرح سید خاں، ہوٹل مالک شیر محمد اس کا ملازم فضل
سبحان اور ایک نامعلوم شخص کي نعش شامل ہے جبکہ
دھماکہ ميں پولیس تھانہ سٹي کے شدیدزخميوں ميں
پندرہ اہلکارسب انسپکٹر نوشاد ،انسپکٹر عزیز گل ،سب
انسپکٹر شمس الرحمان، سب انسپکٹر نور علي، ہیڈ
کنسٹیبل لعل نواس،کنسٹیبل نگار خان کنسٹیبل ہدایت
شاہ کانسٹیبل توحید اور ہیڈ کنسٹیبل ریاض محمد
شامل ہیں جبکہ دیگر زخمیوں ميں محمد کریم جمشید،
نور اللہ خان، جہان سید، سعید ،جھانزیب اور ابرار
شامل ہے دھماکہ جمعہ کي صبح پونے چھ بجے ہوا
دھماکہ کي آواز پندرہ کلو میٹر کے فاصلے تک سنائي
گئي دھماکے کي آواز سنتے ہي سینکڑوں افراد گھروں
سے نکل کر جائے حادثہ پر پہنچ گئے دھماکے کي جگہ
قیامت صغريٰ کا منظر پیش کررہا تھا مردان ہسپتال
ميں ایمرجنسي نافذ کیاگیا اور ڈي پي او مردان محمد
طاہر خان ڈي سي او مبشر حسین شاہ، ضلعي ناظم عنایت
اللہ ،ڈي آئي جي مردان اختر علي شاہ خان ودیگر
اعليٰ حکام جائے حادثہ پہنچ کر شہید ہونے والوں
اورخمیوں کو اپني نگراني ميں ہسپتال منتقل کردےئے
درجنوں افراد ہسپتال پہنچ کر زخمیوں کیلئے خون کے
عطیات دےئے دھماکہ سے تھانہ سٹي کا اندروني دروازہ
مکمل تباہ اور شعبہ تفتیش کے دفاتر ،کنسٹیبلان کے
بارک کو شدید نقصان پہنچا اور تھانہ ایک سائڈ سے
مکمل تباہ ہوگیا تھا یک پولیس افسر کے مطابق کاربم
دھماکہ سوزوکي الٹو ميں ہواتھا اور
20کلووزني
دھماکہ خیز مواد استعمال کیاگیا یہ امر قابل ذکر
ہے مردان کے تھانوں کو فائرنگ اور راکٹ لانچر فائر
کرنے کے ایک درجن سے زائد واقعات رونما ہوئے ہیں۔
تحريک طالبان نے مردان ميں ہونے والے کار بم
دھماکے کي ذمہ داري قبول کرتے ہوئے اسے پوليس کے
ہاتھوں ان کے کمانڈر حافظ سعيد کا بدلہ قرار ديا
ہے نجي ٹي وي سے فون پر بات چيت کرتے ہوئے تحريک
طالبان کے ترجمان عبد اللہ نے کہاکہ صوبائي حکومت
مذاکرات کے نام پر طالبان کے ٹھکانوں کا پتہ لگانا
چاہتي ہے اور اسي تناظرميں گزشتہ دنوں مردان کے
نواحي علاقے ميں کمانڈر حافظ سعيد کو شہيد کر ديا
گيا ترجمان نے کہاکہ مردان کا دھماکہ اسي وجہ سے
کيا گيا ہے اور اس سے طالبان تحريک کي جانب سے
پہلا وار سمجھا جائے ۔
مردان ميں سٹي پوليس اسٹيشن کے قريب کاربم
دھماکہ‘اے ايس آئي سميت تين افراد جاں بحق‘13پو
ليس اہلکاروں سميت
24زخمي
وقت اشاعت :Friday,25
April 2008, 06:09 GMT 11:09 PST
رپورٹ : بی بی سی ون ڈاٹ نیٹ مردان
مردان ميں سٹي پوليس اسٹيشن کے قريب کاربم دھماکے
کے نتيجے ميںاے ايس آئي سميت تين افراد جاں بحق
اور13پو
ليس اہلکاروں سميت
24زخمي
ہوگئے ۔اطلاعات کے مطابق مردان تھانہ
سٹي کے قريب ايک زور دار دھماکہ ہوا جس کے نتيجے
ميںاے ايس آئي فرخ سعيد سميت تين افراد جاں اور
24سے
زائد زخمي ہوئے جن ميں بعض کي حالت تشويشناک بتائي
جاتي ہے۔پوليس کے مطابق يہ واقعہ جمعہ کي صبح چھ
بجے کے قريب پيش آيا۔ دھماکے کے فوراً بعد امدادي
کارروائيوں کا آغاز کر ديا گيا اور زخميوں کومردان
ہسپتال منتقل کر ديا گيا ۔زخميوں ميں نوشاد صابر
نور رحمان شمس الرحمان نور علي صالقين صابر ہدايت
اللہ نور علي محمد عزيز محمد رفيق جہانزيب محمد
کريم توعيد عطا محمد ابرار صابر گل نگار احمد
جمشيد بخت منير لال نواز سعيد ابرار شير محمد رياض
حسين ابرار وغيرہ شامل ہيں ۔ ايک نجي ٹي وي کے
مطابق زخميوں ميں تيرہ پوليس اہلکار بھي شامل ہيں
۔دھماکے کے بعد ہسپتال ميں ايمر جنسي نافذکر دي
گئي ہيں اور عوام زخميوں کي خون کے عطيہ کي اپيل
کي جارہي ہے ۔عيني شاہدين کے مطابق دھماکہ اتنا
زور دار تھا کہ اس سے تھانے کا ايک کمرہ مکمل
طورپر منہدم ہوگياہے جس سے کئي پوليس اہلکار زخمي
ہوگئے ہيں۔
|