|
سوات سکيورٹي فورسز کا آپريشن جاري ريموٹ بم
دھماکے ميں نو پوليس اہلکار جاں بحق متعدد زخمي دو
کي حالت نازک ۔مکان پر مارٹر گولہ گرنے سے خاتون
جاں بحق اہل علاقہ کااحتجاج لوگوںنے نقل و مکاني
شروع کر دي متعددافراد گرفتار۔ تحصيل کبل کے سابق
يوسي ناظم اغوائ لڑکيوں کے دو سکول نذر آتش دو
پلوں کو بم سے اڑا ديا گيا طالبان نے ذمہ داري
قبول کرلي
رپورٹ : بی بی سی ون ڈاٹ نیٹ پشاور+ سوات
سوات میں پولیس اہلکاروں کي گاڑي پر ریموٹ کنٹرول
بم حملے اور مٹہ ميں مکان پر مارٹر گولہ گرنے سے
ايک خاتون ايڈيشنل ايس ايچ اوکبل اور
8
پوليس اہلکاروں سميت
10افراد
جاں بحق اورمتعدد زخمي ہو گئے جبکہ مقامي طالبان
نے لڑکيوں کے دو سکولوں کو نذر آتش اور دو رابطہ
پلوں کو دھماکہ خيز مواد سے اڑايا ہے ادھر مٹہ ميں
کرفيو کے باوجود شہري آباد پر گولہ باري کے خلاف
لوگوں نے شديد احتجاج کيا ہے جبکہ صوبائي حکومت نے
شکر درہ ميں سرچ آپريشن کے دور ان متعدد گرفتار کر
نے کا دعويٰ کيا ہے۔ تفصيلات کے مطابق سوات کي
تحصيل کبل کے گاؤں ہزار ہ کے مقام پر پوليس موبائل
گاڑي کو اس وقت ريموٹ کنٹرول بم سے اڑا ديا گيا جس
وہ مينگورہ سے پوليس سٹيشن کرفيو کے دور ان جارہي
تھي جس کے نتيجے ميں
9اہلکار
جاں بحق اور متعدد زخمي ہوگئے جاں بحق ہونے والوں
ميں امان اللہ غلام حيدر ڈرائيور ذو الفقار جاويد
علي محمد جميل پي آر پي فياض سليم اور ديگر دو
پوليس اہلکار شامل ہيں جبکہ زخميوں ميں نعيم محمد
نثار حسين علي ثاقب حسين اور اظہار شامل ہيں سوات
کے ڈسٹرکٹ پوليس آفيسر علي احمد خان نے صحافیو ں
سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ سوات کي تحصيل کبل کے
علاقے ہزارہ پل میں ہفتہ کوپولیس اہلکاروں کي ایک
گاڑي پر نامعلوم افراد نے ریمورٹ کنٹرول بم سے
حملہ کیا جن میں ايڈيشنل ايس ايچ اوکبل امان اللہ،
حضرت حسین ،شعیب غلام حیدراور شیراز و ديگرشامل
ہیں انھوں نے کہا کہ زخميوں کو طبي امداد فراہم
کرنے کے ليے سیدو شریف ہسپتال پہنچا ديا گيا ہے جن
ميں سے دو حالت تشويشناک ہے۔علي احمد خان نے بتايا
کہ يہ پوليس اہلکار صدر مقام مينگورہ سے تنخواہيں
ليکر واپس تحصيل کبل آ رہے تھے کہ بم حملے کا
نشانہ بنے۔ذرائع ابلاغ کے مطابق پولیس کي گاڑي میں
15اہلکار
سوار تھے۔ايک نجي ٹي وي کے مطابق تحصيل کبل کے
سابق يوسي نائب ناظم کو اغوا کرليا گيا ہے
ادھرسوات کي تحصيل مٹہ اور کبل کے بعد سيکورٹي
فورسز نے تحصيل چار باغ ميں بھي طالبان کے خلاف
آپريشن شروع کرديا ہے ۔ تحصيل مٹہ کے علاقے خريڑي
چم ميں مکان پر مارٹر گولہ گرنے سے ايک خاتون جاں
بحق ہوگئي۔ جس کے بعد مٹہ ميں کرفيو کے
باوجودسينکڑوں افراد نے شہري آباد ي پر گولہ باري
کے خلاف احتجاج کيا۔ تحصيل چار باغ ميں منگلور اور
ديگر علاقوں پر سيکورٹي فورسز نے طالبان کے مشتبہ
ٹھکانوں پر گولہ باري کي ہے تاہم کسي نقصان کي
اطلاع موصول نہيں ہوئي۔ مينگورہ ميں صبح سات بجے
سے شام سات بجے تک کرفيو ميں وقفہ ہے۔ ضلع سوات کے
ديگر علاقوں ميں غير معينہ مدت کا کرفيو نافذ ہے۔
دريں اثنائ سوات ميں سيکورٹي فورسز اور طالبان کے
درميان جھڑپوں کي وجہ سے کاروبار زندگي ٹھپ ہوکر
رہ گيا ہے ۔ کبھي سوات زندگي سے بھرپور وادي ہوا
کرتي تھي مگر اب يہاں خوف کا عالم ہے ۔علاقے ميں
شدت پسندوں کے خلاف سيکورٹي فورسز کا آپريشن جاري
ہے ۔ اس دوران کرفيوکا وقفہ ہو تو زندگي ايک
نامانوس طريقے سے واپس لوٹتي ہے ۔نامانوس اس لئے
کہ صاحب حيثيت خاندان کرفيو کے دورانيے کا فائدہ
اٹھا کر يہاں سے بھاگنے لگتے ہيں۔ درجنوں خاندانوں
کي محفوظ مقامات کي جانب نقل مکاني کا سلسلہ جاري
ہے ۔ حکومت نے گزشتہ کو کرفيو ميں پانچ گھنٹے کي
نرمي کي ۔ بہتر ہوتي ہوئي صورتحال سے فائدہ اٹھاتے
ہوئے لوگ غذائي اشيائ اور ديگر ضروري چيزيں خريدنے
کے لئے گھروں سے نکل آئے مگر علاقے ميں کھانے پينے
کي تازہ اشيائ دستياب نہيں ہيں اور جو باسي چيزيں
مل رہي ہيں ان کي قيمتيں بہت زيادہ ہيں ۔بجلي معطل
ہے اور ٹيلي فون کے نظام کوخاموش کرديا گيا ہے ۔
بجلي کي عدم دستيابي کي وجہ سے پاني کي قلت پيدا
ہوگئي ہے جبکہ باغات ميں تيار فصليں خراب ہورہي
ہيں ۔ بچوں کے اسکول بند پڑے ہيں اور سرکاري
دفاترميں بھي کام ٹھپ ہوکر رہ گيا ہے ۔دريں اثنائ
سوات ميں ايک روز کي خاموشي کے بعد طالبان نے
کاروائي کرتے ہوئے لڑکيوں کے دو سکولوں کو نذر آتش
اور دو رابطہ پلوں کو دھماکہ خيز مواد سے اڑايا
ہے۔ذرائع ابالغ کے مطابق سوات میں مقامي طالبان نے
گزشتہ شب تحصيل مٹہ کے صحرا علاقے ميں واقع گرلز
مڈل سکول اور صدر مقام مينگورہ ميں لڑکيوں کے نجي
تعليمي ادارے کو نذرِ آتش کر ديا ہے۔ طالبان نے
تحصيل خوازہ خيلہ ميں دو رابطہ پلوں کو دھماکہ خيز
مواد سے اڑا ديا ہے۔ شکردرہ ہي ميں حکومت نے سرچ
آپريشن کے دوران متعدد افراد کو گرفتار کرنے کا
دعويٰ بھي کيا ہے۔ طالبان کے ترجمان مسلم خان نے
بي بي سي سے بات چيت کرتے ہوئے تمام واقعات کي ذمہ
داري قبول کرلي۔ہلاکتوں کے حوالے سے انھوں نے
حکومتي دعويٰ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ چھ روز کے
دوران ان کے صرف نو ساتھي مارے گئے ہيں۔ ابھي تک
فريقين کے درميان جنگ بندي کي کوئي کوشش نہيں ہوئي
ہے۔ صوبہ سرحد ميں اعلي سطح اجلاس ميں حکام نے
فيصلہ کيا ہے کہ ضلع سوات ميںتخريب کار عناصر کے
خلاف شروع کي گئي کاروائي تمام ترمقاصد کے حصول تک
جاري رہے گي۔ واضح رہے سوات آپريشن کے دوران اب تک
پانچ سيکورٹي اہلکاروں، پچپن طالبان اور پچيس
شہريوں سميت پچاسي افراد ہلاک ہوچکے ہيں۔
|