|
منصفانہ انتخابات ہوجائيں توپيپلز پارٹي ملک کي
تقدير بدل دے گي ،آصف زرداري ۔
رپورٹ : بی بی سی ون ڈاٹ نیٹ واشنگٹن
پاکستان پيپلز پارٹي کے شريک چيرمين آصف زرداري نے
کہا ہے کہ اگر پاکستان کے لوگوں کو صرف ايک دن
يعني 18
فروري کو انصاف مل جائے اور منصفانہ انتخابات
ہوجائيں تو ان کي پارٹي ملک کي تقدير بدل کر رکھ
دے گي۔ امريکہ ريڈيو پروگرام ميں گفتگو کرتے ہوئے
آصف زرداري نے کہا کہ وہ موجودہ انتخابات ميں
احتجاجاً حصہ لے رہے ہيں اور انہيں معلوم ہے
دھاندلي پہلے ہي ہو چکي ہے اور خدشہ ہے کہ مزيد
ہوگي۔آصف زرداري کا کہنا تھا کہ وہ ايک دن کا
انصاف چاہئيے تاکہ پاکستان کے عوام اپني قسمت کا
فيصلہ کر سکيں ليکن اگر عوام کو ايک دن بھي انصاف
نہيں ملا تو اس کے نتائج کي ذمہ داري موجودہ حکومت
پر ہوگي۔پاکستان پيپلز پارٹي کے رہنما نے کہا کہ
بینظير بھٹو ايک عالمي سمجھوتے کے تحت پاکستان
واپس آئي تھيں ليکن ان کے قتل کے ساتھ ہي وہ
معاہدہ اب ٹوٹ گيا۔ انہوں نے کہا کہ ان کي شہادت
کے بعد ان کے قتل کي تحقيقات کے ليے اقوامِ متحدہ
کي نگراني ميں تفتيش کي حمايت نہيں کي جارہي جو کہ
افسوس ناک ہے۔ڈاکٹر عبدالقدير خان کے بارے ميں ايک
سوال کا جواب ديتے ہوئے آصف زرداري نے کہا کہ ان
کے ساتھ جو سلوک کيا گيا ہے وہ موجودہ حکومت نے
کيا ہے، اور انھيں اپنے دفاع کا حق حاصل ہے جو
انہيں نہيں ملا۔انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عبدالقدير
کا معاملہ ايسا نہيں ہے جس کا فيصلہ صرف ان کي
پارٹي کو کرنا ہے بلکہ اس کا فيصلہ پاکستاني عوام
اور اس کي منتخب پارليمان نے کرنا ہے۔ايک سوال کے
جواب ميں آصف زرداري نے کہا کہ ان کي پارٹي کا
کوئي رکن مرکزي مجلسِ عاملہ کو بتائے بغير مشرف
حکومت سے رابطہ نہيں کرسکتا اور ان کي معلومات کے
مطابق کسي نے محترمہ کي شہادت کے بعد حکومت سے
رابطہ نہيں کيا۔نئے فوجي سربراہ جنرل کياني کي
پاليسيوں کا ذکر کرتے ہوئے آصف زرداري نے کہا کہ
فکري سطح پر ان کي باتيں خوش آئند ہيں ليکن يہ آگے
چل کر ديکھنا ہوگا کہ وہ ان پر کس حد تک عمل
کرواتے ہيں۔
|