|
مذاکرات کامياب مقامي انتظاميہ نے جبار اچکزئي اور
اس کے بيٹے اور مغويان نے اے ايس پي کو تين گن
مينوں سميت رہاکرديا
رپورٹ : بی بی سی ون ڈاٹ نیٹ کوئٹہ
اطلاعات کے مطابق اے ايس پي سليم مروت ہفتے کي صبح
چمن سے اپنے تين گن مينوں کے ساتھ کوئٹہ ميں ايک
اہم اجلاس ميں شرکت کيلئے رہے تھے کہ کوئٹہ چمن
بين الاقوامي شاہراہ سے ان کو مسلح افراد نے گن
پوائنٹ پر اغوائ کرليا اور ان کو نامعلوم مقام پر
منتقل کرديا جس پر اے ٹي ايف اور پوليس کے
اہلکاروں نے فوري طور پر علاقے کو گھيرے ميں ليکر
اے ايس پي سليم مروت اور تين گن مينوں کي تلاش شرو
ع کردي تھي اسي دوران اغوائ کرنیوالوں نے پوليس سے
رابطہ کرکے مطالبہ کيا کہ جبار اچکزئي اور ان کے
بيٹے کو رہا کيا جائے ہم اے ايس پي سليم مروت اور
تين گن مينوں کو رہا کردينگے۔ کافي طويل مذاکرات
کے بعد قبائلي رہنماؤں نے اے ايس پي سليم مروت اور
ان کے گن مينوں کو رہا کرديا جس کے جواب ميں مقامي
انتظاميہ نے بھي جبار اچکزئي اور ان کے بيٹے غلام
نبي کو بھي رہا کرديا ا س طرح يہ مسئلہ دس گھنٹے
کے بعد حل ہوگيا ہے ياد رہے جبار اچکزئي اور ان کے
ديگر افراد نے چند دن قبل ايک سرکاري محکمے کے
افسر کو اغوائ کيا تھا جس پر مقامي انتظاميہ نے
گزشتہ رات قلعہ عبداللہ ميں چھاپہ مار کر جبار
اچکزئي اور اس کے بيٹے کو گرفتار کرليا تھا جس پر
اس قبيلے سے تعلق رکھنے والے افراد نے ہفتے کي صبح
اے ايس پي سليم مروت اور اس کے تين گن مينوں کو
اغوائ کيا تھا بعد ميں طويل مذاکرات کے بعد اے ايس
پي اور تين گن مينوں کو مسلح افراد نے رہا کرديا
اور جس کے جواب ميں مقامي انتظاميہ نے جبار اچکزئي
اور اس کے بيٹے کو بھي رہا کرديا ہے ۔
وقت اشاعت :Saturday,23
February 2008, 14:45 GMT 19:45 PST
قلعہ عبداللہ ميں نامعلوم افراد نے اے ايس پي سميت
چار پوليس اہلکاروں کو اغوا کرليا يہاں امدہ
واطلاعات کے مطابق گزشتہ روز پوليس نے قلعہ
عبداللہ ميں کارروائي کرتے
ہوئے دو افراد حاجي جبار اور غلام نبي کو گرفتار
کيا تھا جس کے بعد علاقے کے لوگوں نے احتجاج ہفتہ
کي صبح روڈ بلاک کيا تھا اور واقعہ کي اطلاع ملنے
پر اے ايس پي سليم مروت اپنے تين گن مينوں کے
ہمراہ روڈُ کھلوانے جارہے تھے کہ قلعہ عبداللہ کے
علاقہ زيارت کراس کے قريب نامعلوم مسلح افراد نے
اے ايس پي سليم مروت کو ان کے تين گن مينوں سميت
اغوائ کرکے نامعلوم مقام پر لے گئے مزيد کارورائي
پوليس کا عملہ کررہا ہے
|