|
نو
مارچ کو ہم یوم عدلیہ منائیں گے،اے پی ڈی ایم
رپورٹ : بی بی سی ون ڈاٹ نیٹ اسلام آباد
آل
پارٹيز ڈيمو کريٹک موومنٹ نے
9مارچ
کو ملک گير سطح پر يوم عدليہ منانے کااعلان کرتے
ہوئے پاکستان پيپلز پارٹي اور مسلم ليگ”ن” سے
مطالبہ کيا ہے کہ وہ اعلي عدليہ کے ججز کو
ايمرجنسي سے پہلے والي حالت ميں بحال کرے ، اس
کيلئے مسلم ليگ
ن
اورپيپلز پارٹي کي حکومت کو وقت دينگے منگل کو آل پارٹيز ڈيمو
کريٹک موومنٹ کا سربراہي اجلاس جماعت اسلامي کے
امير قاضي حسين احمد کي رہائش گاہ پر ا تحاد کے
کنوينر محمود خان اچکزئي کي زير صدارت منعقد ہوا
جس ميں قاضي حسين احمد کے علاوہ تحريک انصاف کے
سربراہ عمران خان ڈاکٹر عبد الحئي بلوچ قادر مگسي
خاکسار تحريک کے امير حميد الدين مشرقي جنرل
ريٹائرڈحميد گل لياقت بلوچ عبد الرحيم نقشبندي
سميت ديگر رہنماؤں نے شرکت کي اجلاس تقريباً چار
گھنٹے سے زائد وقت تک جاري رہا جس کے بعد اے پي ڈي
ايم کے محمود خان اچکزئي عمران خان اور قاضي حسين
احمد نے ديگر رہنماؤں کے ساتھ مشترکہ پريس کانفرنس
سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہم نو ماچ کو کوئی لانگ
ماچ نہیں کر رہے بلکہ ہم نو مارچ کو یوم عدلیہ منا
رہے ہیں ،امریکی مداخلت کے ایک سوال پر انہوں نے
کہا کہ اگر يہ لوگ
پاکستان سے تعلق رکھنا چاہتے ہيں تو پاکستان کو
وہي حيثيت د يں جو اپنے ملک کي جمہوري قوتوں کو
ديتے ہيں ، ہمارے عدليہ کا ويسا ہي احترام کريں
جيسے اپني عدليہ کا کرتے ہيں اور ہمارے جرنيلوں کو
بھي اپنے جرنيلوں جيسا مقام ديں، ايک سوال کے جواب
ميں انہوں نے کہا کہ جج بحال نہ ہونے پر احتجاج
کرينگے ، عمران خان نے ايک سوال کے جواب ميں کہا
کہ اگر بينظير بھٹو شہيد نہ ہوتيں تو آٹھ جنوري کو
ہونے والے انتخابات کا نتيجہ مختلف ہوتا،جيسا کہ
نظر آرہا تھا مسلم ليگ قائد اعظم جيت جاتي بينظير
کے خون کا باعث مشرف کے حمايتيوں کوشکست ہوئي
انہوں نے کہا کہ صدر مشرف کو کسي بھي
طرح قانوني صدر نہيں سمجھتے ايک اور سوال کے جواب
ميں انہوں نے کہا کہ پيپلز پارٹي اور مسلم ليگ ن
وعدہ پورا کريں وگرنہ وکلائ سول سوسائٹي سے مل کر
تحريک چلائيں گے ۔
|