|
ّ”امریکہ
قبائلی علاقوں میں امن نہیں چاہتا“مولوی عمر۔
رپورٹ : بی بی سی ون ڈاٹ نیٹ پشاور
قبائلی علاقوں میں سرگرم بیت اللہ محسود کی تحریک
طالبان پاکستان کے ترجمان مولوی عمر نے الزام
لگایا ہے کہ امریکہ اور دیگر بیرونی ممالک قبائلی
علاقوں میں امن نہیں چاہتے اس لیے
وہ پاکستانی حکومت پر طالبان سے مذاکرات ختم کرنے
پر زور دے رہے ہیں۔ مولوی عمر نے وائس آف امریکہ
کے پشاور میں نمائندے شمیم شاہد سے خصوصی گفتگو
کرتے ہوئے بتایا کہ قبائلی علاقوں کے طالبان
پاکستانی ہیں اور وہ یہاں امن قائم کرنا چاہتے ہیں
جبکہ صدر مشرف امریکہ کی جنگ اپنے خطے میں لڑ رہے
تھے اور یہاں کے لوگوں پر بم برسائے جارہے تھے
لیکن ان کے بقول نئی حکومت کو یہ بات سمجھ آچکی ہے
کہ امن کے قیام کے لیے طاقت کی بجائےمذاکرات کے
ذریعے معاملات کو حل کرنا ہوگا۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ حکومت کے ساتھ طالبان
کےمذاکرات تعطل کا شکار ہوگئے ہیں تو انہوں نے کہا
کہ ان کے علم میں ایسی کوئی بات نہیں ہے اور حکومت
کے ساتھ مذاکرات کا عمل جاری رہنا چاہیے ان کے
بقول انہی مذاکرات کے نتیجے میں امن معاہدے ہورہے
ہیں اور طالبان اس کی پاسداری کرنے کا عزم کئے
ہوئے ہیں بشرطیکہ حکومت بھی ایسا ہی کرے۔
ایک سوال کے جواب میں مولوی عمر نے کہا کہ
افغانستان کے طالبان امریکہ اور نیٹو افواج کے
خلاف بھرپورمزاحمت کررہے ہیں اور اگر انہیں
پاکستانی طالبان کی مدد کی ضرورت پڑی تو ان کے
بقول انشاء اللہ وہ ان کی بھرپور مددکریں گے۔مولوی
عمر نے کہا کہ افغان حکومت اگر یہ مطالبہ کرتی ہے
کہ پاکستان کی سرزمین سے اس کے علاقے میں مداخلت
نہ ہو تو یہ ایک معقول مطالبہ ہے لیکن امریکہ اور
نیٹو افواج افغانستان پر قابض ہیں لہذا انہیں یہ
مطالبہ کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔
|