|
ّشمالي
وزيرستان حکومت اور محسود قبائل کے جرگے نے مزيد
29قيديوں
کو ايک دوسرے کے حوالے کرديا
رپورٹ : بی بی سی ون ڈاٹ نیٹ ميرانشاہ
قبائلي علاقے شمالي وزيرستان کي تحصيل رزمک ميں
حکومت اور محسود قبائل کے جرگے نے مزيد
29
قيديوں کو ايک دوسرے کے حوالے کرديا ہے جبکہ محسود
علاقے ميں فوج نے تين مقامات سے
واپسي
شروع کر دي ہے رہا ہونے والوں ميں افغانستان ميں
پاکستان کے مغوي سفير طارق عزيز الدين شامل نہيں ۔
اطلاعات کے مطابق رہا ہونے والوں ميں جنوبي
وزيرستان سکاوٹس فورس کے
6
اہلکار اور بيت اللہ گروپ کے
23
مقامي طالبان شامل ہيں۔ مقامي انتظاميہ نے قيديوں
کے تبادلے کي تصديق کردي ہے۔ حکام نے کہاہے کہ
محسود قبائل کے جرگے کے ساتھ بات چيت ميں حکومت کي
جانب سے مقامي انتظاميہ اور فوجي اہلکار شامل
تھے۔مقامي لوگوں کے مطابق طالبان کے رہا ہونے والے23
طالبان ميں سے
6ميرانشاہ
اور3
ڈيرہ اسماعيل خان سنٹر جيل سے لائے گئے تھے رہائي
پانے والوں ميںکوئي غيرملکي شامل نہيں ۔ دوسري
جانب برطانوي خبر ادارے نے سرکاري ذرائع کے حوالے
سے بتايا کہ محسود علاقہ ميں فوج نے تين مقامات سے
واپسي شروع کردي ہے جن ميں کوٹ کائي، چگملائي اور
سپنکئي راغزئي شامل ہيں۔ انتظاميہ کے ايک اہلکار
نے دو دن قبل کہا تھا کہ رہائي کے مرحلے کے بعد
جنوبي وزيرستان ميں بعض علاقوں سے فوج کي واپسي
شروع ہوجائیگي۔ طالبان کي طرف سے رہائي پانے والے
قيديوں ميں افغانستان ميں پاکستان کے سفير طارق
عزيزالدين شامل نہيں جنہيں پشاور سے افغانستان
جاتے ہوئے خيبر ايجنسي سے اغوائ کيا گيا تھا۔ ياد
رہے کہ حکومت اور محسود قبائل کے دو سرکردہ ملک
اکرام الدين اور امير محمد کے کامياب مذاکرات کے
بعد حکومت اور بيت اللہ گروپ کے قيديوں کا تبادلہ
شروع ہوا تھا۔ گزشتہ چار روز سے بيت اللہ گروپ کے
پچپن افراد اور سکيورٹي فورسز کے اٹھارہ اہلکار
رہا ہوئے ہيں۔
|