|
ّباجوڑ
ايجنسي کے صحافي محمدابراہيم کوفرائض کي ادائيگي
کے دوران شہيد کردياگيا۔مرحوم باجوڑميں طالبان
تحريک کے ترجمان مولوي عمر کاانٹرويو کرکے واپس
جارہے تھے گوليوں کانشانہ بن گئے۔
رپورٹ : بی بی سی ون ڈاٹ نیٹ باجوڑ
باجوڑ ايجنسي ميں اين اين ئي کے نمائندے اورقبائلي
امورکے نامور صحافي محمدابراہيم کوفرائض کي
ادائيگي کے دوران فائرنگ کرکے شہيد
کردياگيا۔محمدابراہيم خان
باجوڑايجنسي ميں اين اين ئي کے لئے عرصہ دراز سے
خدمات سرانجام دے رہے تھے اورقبائلي امور پر گرفت
ہونے کے باعث ملکي اورغيرملکي ميڈيا کے لئے بھي
کام کياکرتے تھے۔مرحوم محمدابراہيم ايک نڈر،بے باک
اورعلم دوست صحافي تھے اوران کي شہادت بھي ايک
ايسے موقع پر ہوئي جب ان کے ہاتھ ميں قلم موجود
تھا۔مرحوم نے اپني فرائض کي ادائيگي کے دوران
باجوڑميں طالبان کے ترجمان مولوي
محمدعمرکاانٹرويوايک چينل کیلئے ريکارڈکياتھا
اوروہ موٹرسائيکل پر واپس جارہے تھے کہ عنايت کلے
بائي پاس کے قريب نامعلوم افراد نے ان پر فائرنگ
کردي جس سے وہ موقع پر شہيد ہوگئے جبکہ حملہ وران
کا کيمرہ لیکرفرارہوگئے۔يہ انٹرويو صحافتي زندگي
کاخري انٹرويو تھا اورپيشہ ورانہ فرائض کي انجام
دہي کے دوران خالق حقيقي سے جاملے۔مرحوم نے
سوگواران ميں ايک بيوہ اورٹھ بچے چھوڑے ہيں ۔خيبريونين
ف جرنلسٹس،ٹرائيبل يونين ف جرنلسٹس اورديگر صحافتي
تنظيموںنے محمدابراہيم خان کي شہادت پر اپنے گہرے
رنج وغم کااظہارکرتے ہوئے حکومت وقت سے قاتلوں کي
في الفور گرفتاري کاحکم ديا ہے۔
|