|
فلمي حلقوں نے قومي بجٹ ميں فلمي صنعت کو نظر
انداز کرنے پر مايوسي کا اظہار کر ديا ۔حکومت کو
کلچرل سے کوئي دلچسپي نہيں اس لئے بجٹ ميں کسي قسم
کا کوئي فنڈ مختص نہيں کيا گيا‘فلمي حلقے
رپورٹ : بی بی سی ون ڈاٹ نیٹ لاہور
فلمي حلقوں نے گزشتہ روز آنيوالے قومي بجٹ ميں
فلمي صنعت کو نظر انداز کرنے پر مايوسي کا اظہار
کر ديا ۔ تفصيلات کے مطابق فلمي حلقوں کا کہنا ہے
کہ فلمي صنعت جس بحران سے دو چار ہے اس کيلئے
حکومتي سطح پرمراعت ‘ قومي سرپرستي ميں ايک کلر
ليبارٹري کا قيام ‘فلم سٹي اسلام آباد کا قيام
‘سينما انڈسٹري کو مشينري ميں چھوٹ کا اعلان اور
اسٹوڈيوز ميں نئي مشينري و ديگر انتظامات کے حوالے
سے کسي قسم کي کوئي مراعت کا اعلان نہ کرنے پر
فلمي حلقوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ
ہماري حکومت نے بجٹ ميں کسي قسم کا کوئي فنڈ مختص
نہيں کيا اس سے يو ں محسوس ہوتا ہے کہ ہماري حکومت
کو کلچرل سے کوئي دلچسپي نہيں ۔ فلمي سنجيدہ حلقوں
نے ايک سروے ميں بتايا کہ نئي حکومت کو تين ماہ سے
زائد عرصہ گزر چکا اور تاحال کلچر ل منسٹر کي
نامزدگي ادھوري پڑي ہوئي ہے دوسري جانب کلچرل
پاليسي کے حوالے سے وفاقي اور صوبائي دونوں سطح پر
کوئي واضح منصوبہ بندي موجود نہيں جس سے فلم
‘تھيٹر کے حوالے سے پاليسي بھارتي فلموں کي
پاکستان ميں نمائش کے حوالے سے واضح پاليسي نامکمل
پڑي ہوئي ہے اور پاکستان فلم انڈسٹري روز بروز
مزيد نقصان سے دو چار ہو رہي ہے ۔ قومي بجٹ ميں
اگر فلمي صنعت کو واقعہ ہي صنعت سمجھا جاتا تو اس
سلسلہ ميں کچھ نہ کچھ اقدامات ضرور کئے جاتے
پاکستان فلم انڈسٹري کے اکثريتي سنجيدہ حلقوں نے
مطالبہ کيا ہے کہ فلم انڈسٹري کے مسائل حل کرنے
کيلئے واضح طور پر وفاقي اور صوبائي سطح پر
اقدامات کئے جائيں ۔ فلم ايک موثر ذريع ابلاغ ہے
جس سے قوموں کي راہنمائي کا کام بہتر انداز سے ليا
جا سکتا ہے ۔
|