|
بھارتي سپنر ہربھجن سنگھ پر تين ميچوں کي پابندي
عائد کر دي گئ۔
رپورٹ:
بی بی سی ون ڈاٹ نیٹ سڈنی
آسٹريلوي آل راونڈر اينڈريو سائمنڈز کے خلاف نسلي
امتياز والي فقرے بازي کرنے کے جرم ميں بھارتي
سپنر ہربھجن سنگھ پر تين ٹيسٹ ميچوں کے ليے پابندي
لگا دي گئي ہے۔ ميچ ريفري مائک
پراکٹر نے ہربھجن کے خلاف الزامات کي چار گھنٹے تک
سماعت کرنے کے بعد انہيں کھلاڑيوں کے ضابطہ اخلاق
کي خلاف ورزي کا مرتکب قرار ديا۔ الزام يہ تھا کہ
ہربھجن نے سائمنڈز کو ’بندر‘ کہہ کر پکارا تھا۔
پروکٹر نے کہا کہ سماعت کہ بعد وہ اس نتيجے پر
پہنچے کے ہر بھجن نے يہ لفظ استعال کيا تھا اور وہ
سائمنڈز کي نسل کي بنياد پر ان کو برا بھلا کہنا
چاہتے تھے۔ بتيس سالہ سائمنڈز آسٹريلوي ٹيم کے
واحد کھلاڑي ہيں جو سفيدفام نہيں ہيں۔سماعت کے
دوران ہربھجن کے ساتھ کپتان انيل کمبلے، سچن
ٹيندولکر، ٹيم مينيجر چيتن چوہان اور ان کے نائب
ايم وي سريدھر بھي تھے۔ ہربھجن کو اس فيصلے کے
خلاف اپيل کا حق حاصل ہے۔غير تصديق شد اطلاعات کے
مطابق اپيل کل تک جمع کرا دي جائے گي۔ اگر فيصلہ
برقرار رکھا گيا تو ہربھجن آسٹريليا کے خلاف باقي
دو ٹيسٹ نہيں کھيل سکيں گے۔ ستائيس سالہ ہربھجن
1998
سے بھارتي ٹيم کي نمائندگي کر رہے ہيں اور ايک
روزہ اور ٹيسٹ ميچوں ميں ساڑھے چار سو سے زيادہ
وکٹ ليے ہيں۔ سڈني ٹيسٹ کے تيسرے دن بھارتي ٹيم کي
بيٹنگ کے دوران ہربھجن سنگھ اور انڈريو سائمنڈز کے
درميان تکرار کو لوگوں نے ٹي وي پر ديکھا۔ اس وقت
سچن ٹيندولکر نے اس معاملے ميں مداخلت کي اور
ماحول کو معمول پر لانے کي کوشش کي۔ نسلي امتياز
کے خلاف آئي سي سي کي پاليسي بہت سخت ہے۔ اس سے
قبل جنوبي افريقہ کے ہرشيل گبز اور آسٹريليا کے
ڈيرل ليہمين کو بھي نسلي امتيار کے ضابطے کے تحت
سزا دي جاچکي ہے۔گزشتہ برس اکتوبر ميں جب آسٹريليا
کي ٹيم بھارت کے دورے پر آئي تھي تو اس وقت بھي
اينڈريو سائمنڈز نے بھارتي شائقين پر نسلي امتياز
کا الزام لگايا تھا۔
|