|
محمد آصف پاکستان پہنچ گئے ۔ رہائي پر اللہ تعاليٰ
کا شکر گزار ہوں کوئي ممنوعہ شے بر آمد نہيں ہوئي
لاہور ائير پورٹ پر صحافيوں سے گفتگو
رپورٹ : بی بی سی ون ڈاٹ نیٹ لاہور+کراچي
پاکستاني فاسٹ باؤلر محمد آصف لاہور پہنچ گئے ہيں۔
آصف کے خلاف دبئي حکومت کے منشيات رکھنے کے
الزامات واپس لينے پر متحدہ عرب امارات کے اٹارني
جنرل نے محمد آصف کي رہائي
کے احکامات جاري کيے جس کے بعد محمد آصف پي آئي اے
کي پرواز چھ سو چار سے دبئي سے کراچي پہنچے اور
کراچي ميں رکے بغير پي آئي اے کي پرواز پي کے تين
سو دو سے لاہور پہنچ گئے۔لاہور ائر پورٹ پہنچنے پر
محمد آصف نے ميڈيا سے مختصر گفتگو کرتے ہوئے محمد
آصف نے کہاکہ ان کے پاس سے کوئي ممنوعہ شے برآمد
نہيں ہوئي ، اور ان کے سارے ٹيسٹ کليئر آئے
ہيں۔محمد آصف نے کہاکہ وطن واپسي پر اللہ کاشکر
گزار ہوں،پي سي بي کے چيئر مين ڈاکٹر نسيم اشرف
اور پاکستاني سفارتخانے کے حکام نے ميرے ساتھ
بھرپور تعاون کيا۔ دبئي ميں ہونے والے تمام ٹيسٹ
کليئر آئے تھے اس سے قبل آئي پي ايل سے قبل ہونے
والے ٹيسٹ بھي کليئر آئے تھے،دبئي ايئر پورٹ پر
ميرے پاس سے برآمد ہونے والي دوا کو ايئر پورٹ
حکام نے منشيات سمجھ کر مجھے گرفتار کيا۔ تحقيقات
کے دوران کچھ ثابت نہيں ہوا اب مجھ پر کوئي الزام
نہيں ہے۔لاہور اےئرپورٹ پر آصف لاونج سے باہر آئے
تو ميڈيا کي بڑي تعداد نے انہيں گھير لياپاکستان
کرکٹ بورڈ کے حکام نديم اکرم اوراحسن حميد نے محمد
آصف کا استقبال کيا۔ ذرائع کے مطابق پاکستان حکومت
کي مداخلت پر پبلک پر اسکيوٹر محمد النعيمي نے
ٹھوس ثبوت نہ ہونے کي بنائ پر محمد آصف کے خلاف
تمام الزامات ختم کرديئے ہيں۔ نجي ٹي وي کے مطابق
پاکستان کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات
کي رپور ٹ ميں محمد آصف پر الزام ثابت ہوئے تو پي
سي بي فاسٹ باؤلر کے خلاف کارروائي کرے گا۔ واضح
رہے کہ دبئي حکام کے مطابق بھارت سے وطن آتے ہوئے
دبئي ائيرپورٹ پر محمد آصف سے اعشاريہ دو چار گرام
افيون بر آمد ہوئي تھي جس پر انہيں حراست ميں لے
کر ائير پورٹ ڈيٹينشن سينٹر بھيج ديا گيا
تھا۔متحدہ عرب امارت کے اٹارني جنرل کي مصروفيت کے
باعث فاسٹ باؤلر کا کيس اٹھارہ روز تک التوا کا
شکار رہا۔
کي
|